تائیوان کے علیحدگی پسندوں کی اشتعال انگیزی کے رکنے تک ان کی سزا بھی نہیں رکے گی ،چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
بیجنگ :امریکہ، یورپی یونین، جاپان اور چند اور ممالک نے تائیوان جزیرے کے ارد گرد چائنا پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ مشقوں اور تربیت پر تبصرہ کرتے ہوئے چین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے 2 اپریل کو رسمی پریس کانفرنس میں کہا کہ مذکورہ تنقید حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے،جس کی چین سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ تائیوان کا مسئلہ خالصتاً چین کا داخلی معاملہ ہے جس میں کسی غیر ملکی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے اور آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو نقصانات علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں اور بیرونی قوتوں کی ملی بھگت اور حمایت سے پہنچے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ چین کی مشترکہ مشقیں لائی چھنگ ڈہ حکام کی بے تحاشا اشتعال انگیزی کی سخت سزا، تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کو سخت انتباہ اور قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے ایک ذمہ دارانہ اقدام ہے۔چینی ترجمان نے کہا کہ تائیوان کے علیحدگی پسندوں کی اشتعال انگیزی کے رکنے تک علیحدگی پسندوں کی سزا ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے تمام ضروری اقدامات اختیار کئے جائیں گے ۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیحدگی پسندوں کی
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔