وزارت مذہبی امور نے عمرہ کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 ستمبر2025ء) عمرہ زائرین کو جعل سازی سے بچانے کے لئے اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ترجمان کے مطابق وزارت مذہبی امور نے عمرہ کمپنیوں کی فہرست کا اجرا کر دیا، وزارت مذہبی امور نے 113 مصدقہ عمرہ کمپنیوں کی فہرست ویب سائٹ پر جاری کی، عمرہ کمپنیوں کی فہرست اسلامی سال 1447 ہجری کے لیے قابل عمل ہے، عمرہ زائرین بکنگ سے پہلے وزارت کی ویب سائٹ سے کمپنی کی لازمی تصدیق کریں۔
(جاری ہے)
ترجمان کا کہنا ہے کہ رقم کی ادائیگی بینک کے ذریعے کمپنی اکاؤنٹ میں کی جائے، عمرہ زائرین کمپنی سے ادائیگی رسید اور معاہدے کی کاپی لازمی حاصل کریں۔ترجمان نے کہا کہ عمرہ کمپنیوں سے ویزہ، فضائی ٹکٹ، ٹرانسپورٹ اور رہائش کا مشتمل مکمل پیکیج بک کرایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمرہ کمپنیوں کی فہرست
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔