تیمور جھگڑا سے کرپشن کی چھان بین، سوالنامہ بھجوا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
تیمور جھگڑا---فائل فوٹو
پی ٹی آئی اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی نے سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا سے چھان بین شروع کر دی۔
کمیٹی نے تیمور جھگڑا کو محکمۂ صحت اور خزانہ میں مبینہ کرپشن اور بے قاعدگیوں سے متعلق سوالنامہ بھیج دیا۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ سی ایم ہاؤس میں کھڑا ہوں، پی ٹی آئی میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ بطور وزیرِ خزانہ کے پی آپ کے دور میں صوبہ کئی بار تقریباً دیوالیہ ہوا، پنشن اور گریجویٹی کی مد میں پڑے پیسوں میں سے 36 ارب روپے نکالے گئے۔
سوالنامے کے مطابق محکمۂ صحت سے جاری رقوم کی چھان بین محکمۂ خزانہ سے نہیں کرائی گئی، محکمۂ خزانہ میں بڑی تعداد میں تقرریاں کی گئیں جن میں کچھ آپ کے رشتے دار بھی تھے۔
ان سے یہ سوال بھی پوچھے گئے ہیں کہ محکمۂ خزانہ آپ کے دور میں مسلسل مقروض رہا، صحت کارڈز میں ایسے اسپتالوں کا بھی انتخاب کیا گیا جو معیار پر پورا نہیں اترتے تھے، کورونا کے دوران یو این کی دی گئی مشینری استعمال میں نہیں لائی گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تیمور جھگڑا
پڑھیں:
کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
اسلام آباد:مون سون سسٹم کے تحت کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کر دی گئی جس کے سبب اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا جس کے مطابق جنوبی اور وسطی پاکستان میں پیر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے، سندھ، پنجاب اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں 24 سے 28 جولائی تک بارشیں متوقع ہیں۔ اس دوران کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپور خاص، عمر کوٹ، تھرپارکر، شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، خیرپور اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
پنجاب میں 24 سے 26 جولائی کے دوران لاہور، گجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آبا، بہاولپور، رحیم یار خان اور دیگر وسطی علاقوں میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شدید بارشوں سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ آندھی، تیز ہواوٴں اور آسمانی بجلی سے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
محکمہ موسیات نے ہدایت کی کہ سیاح غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کسان موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی سرگرمیاں ترتیب دیں، مویشی پال حضرات حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں، تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی۔