سائنسدانوں نے ایسی ٹرانسپیرنٹ ونڈو یا کھڑکی تیار کی ہے جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ایک نئی کھڑکی تیار کی ہے جو سورج کی روشنی کو اس وقت بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے جب روشنی اس کے آر پار ہوتی ہے۔یہ بنیادی طور پر ٹرانسپیرنٹ سولر سویل ٹیکنالوجی پر مبنی کھڑکی ہے جو بلند و بالا عمارات اور دفاتر کو ہی ماحول دوست پاور پلانٹس میں تبدیل کر دے گی۔

سٹی سولر نامی پراجیکٹ کے تحت اس کھڑکی کی تیاری پر کام کیا گیا جس کا مقصد 2050 تک تمام نئی عمارات کو ماحول دوست توانائی سے لیس کرنا ہے۔اس سے قبل بھی اس طرح کے ٹرانسپیرنٹ سولر سیلز پر مبنی کھڑکیوں پر کام ہوا ہے مگر وہ سورج کی روشی کی توانائی کو جذب کرکے اتنی بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہی جو کسی عمارت کی ضرورت کے لیے کافی ہو۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ بڑے شیشوں پر مشتمل کھڑکیوں کا استعمال موجودہ عہد کی دفتری عمارات میں عام ہوتا ہے اور اب انہیں توانائی کے حصول کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا جس کے لیے اضافی جگہ یا عمارت کی ساخت میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سیلز کے لیے جن میٹریلز کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ بہت سستے ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میں تبدیل سورج کی کے لیے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا