پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی منظوری، گزٹ نوٹیفیکیشن جاری۔
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
پنجاب حکومت نے پولیس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی منظوری دیتے ہوئے گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ ہر ضلع میں ایک جبکہ لاہور میں سی سی ڈی کا ایک تھانہ بنایا جائے گا، 18 سنگین مقدمات کی تفتیش سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ کو منتقل ہو گی۔ پنجاب حکومت نے پولیس آرڈر 2002 میں تبدیلی کر کے آرڈیننس کے زریعے بنائے گئے نئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی منظوری دیدی۔ آرڈیننس کے تحت نئے پولیس یونٹ کا سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی ہو گا۔ ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی ہی یونٹ میں افسران کے تبادلے کر سکے گا۔ ہر ضلع میں سی سی ڈی کا ایک جبکہ لاہور میں سی سی ڈی کے تین تھانے ہوں گے۔ آرڈینینس کے مطابق ڈکیتی، قتل، دوران ڈکیتی قتل، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، بچوں کیساتھ زیادتی، خواتین کیساتھ اجتماعی زیادتی، چوری، گھروں میں ڈکیتی ، قبضہ مافیا سمیت 18 سنگین مقدمات کی تفتیش سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ کرے گا۔ ضلع میں درج کسی بھی اہم اور بڑے مقدمہ کی تفتیش بھی سی سی ڈی کو منتقل ہو گی۔ اہم کیسز کی تفتیش منتقلی کیلئے مقدمہ مدعی کی درخواست پر بورڈ کے افسران فیصلہ کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی میں تعیناتی کیلئے جلد ہی ایس ایس پیز، ایس پیز اور ڈی ایس پیز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :