پاکستان کیلئے باؤنسی، بھارت کیلئے بیٹنگ وکٹیں! دوغلا پن کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
سابق کیوی کرکٹر کریگ مک ملن نے اپنی کرکٹ بورڈ پر سوالیہ نشان لگادیا۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جارہے سیریز کے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرین شرٹس جب بھی دورہ پر آتی ہے تو پچز باؤنسی تیار کروائی جاتی ہیں لیکن جب بھارتی ٹیم دورے کیلئے آتی ہے تو بیٹنگ پچز بنوادی جاتی ہیں۔
انہوں نے نیوزی لینڈ بورڈ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ دوغلا معیار ہرگز سمجھ نہیں آتا، یہ واقعی مایوس کُن ہے۔
مزید پڑھیں: امام انجری کا شکار؛ فیلڈر کی تھرو اوپنر کے منہ پر جالگی، ویڈیو وائرل
دوسری جانب پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 5 ٹی20 میچز کی سیریز میں کیویز نے 1-4 اور تین میچز کی ون ڈے سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کررکھی ہے۔
مزید پڑھیں: بابراعظم کی باؤنڈری لائن پر ننھی بچی سے ہاتھ ملانے کی ویڈیو وائرل
قومی ٹیم دورے کے دوران محض ایک ٹی20 میچ میں فتح حاصل کرسکی تھی جبکہ انہیں 6 میچز میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
کراچی: سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت صوبائی حکومت نے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ نے “سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026” کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ڈیجیٹل امتحانی نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا، نتائج کی تیاری کو تیز اور درست بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
امتحانی نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟
اصلاحاتی پیکیج کے تحت سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز میں ایگزامینیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحانات میں او ایم آر (OMR) سسٹم، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نتائج کی تیاری کے دوران انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مارکنگ اور رزلٹ کا عمل پہلے سے زیادہ شفاف اور تیز ہوگا۔
ڈیجیٹل اسناد بھی جاری کی جائیں گی
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت طلبہ کو مستقبل میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد جاری کی جائیں گی۔ ان اسناد کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل مزید آسان بنایا جا سکے گا۔
24 ماہ میں اصلاحات مکمل کرنے کا ہدف
سندھ کابینہ نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو ضروری قانون سازی کی تجاویز جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ نئے نظام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بورڈ چیئرمینز کی تقرری سے متعلق بھی اہم فیصلہ
کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کو قیادت کا موقع مل سکے۔
اس کے علاوہ میٹرک بورڈ کراچی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینز کی خالی آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے درخواست جمع کرانے والے امیدواروں کی درخواستیں برقرار رہیں گی اور انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔