ہیوی ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے ورثا 12 اپریل کو پلاٹ دوں گا، کامران ٹیسوری
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ شہر میں ٹریفک گردی سے متاثرہ افراد کو 12اپریل 2025 ءکے روز گورنرہاﺅس آنے کی دعوت دیتا ہوں، متاثرہ افراد کو 80گز کے پلاٹ دیں گے اور ان کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل بھی بنائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرجانی کے علاقہ یوسف گوٹھ میں ٹریفک گردی کا شکار نذر عباس کے گھر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
گورنرسندھ نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی اور متاثرہ خاندان کو 80گز کا پلاٹ دیا جبکہ مقتولہ کے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا ۔
واضح رہے کہ ٹریفک گردی میں نذر عباس معذور ہوا جبکہ اس کی بیوی جاں بحق ہوگئی تھی، گورنرسندھ نے مزید کہا کہ یوسف گوٹھ انفرااسٹرکچر، بجلی ، گیس ، پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ یہاں کے لوگوں نے سارے ظلم سہے لیکن ساتھ نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ اس شہر کے ہر مظلوم کا بھائی ہوں، یہ شہر لاوارث نہیں، یہ ہمارا شہر ہے، ہم اس شہر کے بیٹے ہیں۔ اقتدار نہ ہونے کے باوجود بھی ایک بھائی دوسرے بھائی کے گھر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلاشنکوف نہیں قلم دینے آیا ہوں۔ بھائی کو بھائی سے لڑائیں گے نہیں بلکہ ملائیں گے۔ مظلوموں کو انصا ف دلائیں گے اور ان کا مداوا بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 77برس بعد گورنرہاﺅس میں مہاجر کلچر ڈے منایا گیا، اب میرے شہر کے لوگ جذباتی نعروں کے پیچھے نہیں بھاگیں گے۔ ہمیں نعرے نہیں نوکری ، گھروں کی چھت چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ گورنرسندھ بنتے ہیں شہدا قبرستان گیا۔ اس شہر کا بیٹا ہوں ، اپنی پارٹی کا حق پرست گورنرہوں۔
انہوں نے کہا کہ یوسف گوٹھ کے مکینوں کو گورنرہاﺅس میں مفت آئی ٹی کورسز کرائیں گے، یوسف گوٹھ کے مکینوں کی چوری ہونے والی موٹر سائیکل پرانہیں موٹر سائیکل بھی دیں گے۔
یوسف گوٹھ کاجو بچہ پڑھنا چاہتا ہے اس کا ایڈمیشن بھی کرائیں گے۔ اس موقع پر ایک بیوہ کی فریاد پر گورنرسندھ نے اس کے لئے وظیفہ مقرر کرنے اور اسے عمرے پر بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ مجھ سے بڑا کوئی مہاجر نہیں، ماضی میں مہاجروں کو جذباتی نعروں کے پیچھے چلانے اور تقسیم کر کے ہزاروں نوجوانوں کو مروانے والوں کو کراچی میں سیاست کی اجازت نہیں دیں گے۔
میڈیا کے سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ جن کو اختیار حاصل ہیں کیا وہ لوگ ان مظلوموں کے پاس آئے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ گورنرسندھ نے یوسف گوٹھ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔