نویں ،دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کا8اپریل سے آغاز، 499امتحانی مراکز قائم
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
ریگولر طلباء و طالبات کے ایڈمٹ کارڈ بورڈ کے آفیشل پورٹل پر آن لائن جاری
امتحانات کی نگرانی ، نقل کی روک تھام کیلئے رپورٹنگ سیل قائم، خصوصی ٹیمیں تشکیل
کراچی میں منگل 8 اپریل سے شروع ہونے نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات برائے 2025کے لیے اب تک 499امتحانی مراکز قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ تمام ریگولر طلباء و طالبات کے ایڈمٹ کارڈ بورڈ کے آفیشل پورٹل پر آن لائن جاری کیے گئے ہیں۔بورڈ کے ناظم امتحانات ظہیر الدین بھٹو کے مطابق مجموعی طور پر 3لاکھ 75ہزار طلباء و طالبات سائنس و جنرل گروپ ریگولر اور پرائیویٹ کے امتحانات دیں گے جبکہ بورڈ نے 499امتحانی مراکز قائم کیے ہیں جس میں طلباء کیلئے 256اور طالبات کیلئے 243امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں، جس میں سرکاری اسکول اور نجی اسکول بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس دفعہ 19حب امتحانی سینٹر بنائے گئے ہیں جو کراچی کے مختلف 18 ٹاؤنز میں قائم کیے گئے ہیں۔ وہاں پر بورڈ کے آفیسرز امتحانی پرچوں کی ترسیل پر مامور ہوں گے ۔ناظم امتحانات نے دیگر افسران کو کہا کہ تمام امتحانی مراکز کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ امتحانات کے دوران امتحانی سینٹر کے باہر ہدایات آویزاں کریں کہ امتحانی مراکز میں کسی بھی قسم کی ڈیوائس یا موبائل فون ملنے کی صورت میں اسے ضبط کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے نقل کا مواد ہر گز اپنے ساتھ نہ لائیں۔انکا کہنا تھا کہ ہم نے فول پروف انتظامات کے حوالے سے کمشنر کراچی، ڈی جی رینجرز، ایڈیشنل آئی جی، ڈائریکٹر ایجوکیشن کراچی، ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکول سندھ اور دیگر محکموں کو امتحانی مراکز پر دفعہ 144 نافذ کرنے کیلئے لیٹر جاری کیے ہیں جس کے تحت ان مراکز پر بیرونی مداخلت پر پابندی ہوگی اور ان کے اطراف میں کام کرنے والی فوٹو اسٹیٹ کی مشینیں دوران امتحان بند رہیں گی۔ناظم امتحانات نے بتایا کہ بورڈ نے امتحانات کی نگرانی کیلئے بورڈ آفس میں رپورٹنگ سیل قائم کیا ہے جہاں نقل کی روک تھام کیلئے بورڈ کی خصوصی ٹیمیں رپورٹ کے حوالے سے اقدامات کریں گی۔انکا کہنا تھا کہ امتحانی پرچوں کی ترسیل کے لیے ایک موثر نظام تشکیل دیا گیا ہے اور یہ پرچے بورڈ کے افسران حب سینٹرز پر پہنچائیں گے جہاں سے سینٹر سپرنٹنڈنٹ یا ان کا نمائندہ اتھارٹی لیٹر کے ساتھ مہر بند پرچے وصول کر کے اپنے امتحانی مرکز پہنچائیں گے اور جوابی کاپیاں اسکول سپرنٹنڈنٹ یا ان کا نمائندہ بورڈ میں جلد از جلد پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ویجلینس آفیسر ہر امتحانی مرکز پر روزانہ کی بنیاد پر وقت امتحان سے آدھا گھنٹہ قبل امتحانی مرکز پر پہنچے گا اور دوران امتحان پورا وقت وہاں پر رہ کر نقل کی روک تھام کیلئے اقدامات اور نگرانی کرے گا۔ روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کر کے بورڈ میں قائم رپورٹنگ سیل میں جمع کرائے گا جب کہ ویجلینس آفیسر اپنی موجودگی میں مہر بند لفافے پر دستخط کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ضلعی انتظامیہ اور بورڈ کے ذریعے نقل پر قابو پانے کیلئے اجتماعی کاوش کر رہی ہے ، انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کی ہدایت پر شفاف امتحانات کے انعقاد کیلئے تمام اداروں سے تعاون حاصل کیا جا رہا ہے ۔ظہیر الدین بھٹو نے بتایا کہ بورڈ نے (کے الیکٹرک) انتظامیہ سے امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی تحریری درخواست کی ہے تاکہ بچے اچھے ماحول امتحانات دے سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: امتحانی مراکز بورڈ کے گئے ہیں
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔
اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔