کراچی میں بجلی کی 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ پر ایم کیو ایم کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کی معاشی شہ رگ پر ڈھائے جانے والے کے الیکٹرک کے مظالم کو بند کروانے میں فوری کردار ادا کریں۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ کیا روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں دھکیلنا کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں اراکینِ صوبائی اسمبلی نے کہا کہ شہر کا بڑا حصہ 16 گھنٹوں سے زائد وقت تک بجلی سے محروم ہے، کے الیکٹرک نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر شہر میں اجارہ داری قائم کر رکھی ہے جس کا مقصد صرف شہریوں کو لوٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد مرتبہ یقین دہانیاں کرانے کے باوجود کے الیکٹرک کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ادارہ مکمل بے حسی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کی معاشی شہ رگ پر ڈھائے جانے والے کے الیکٹرک کے مظالم کو بند کروانے میں فوری کردار ادا کریں۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ کیا روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں دھکیلنا کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے؟، کے الیکٹرک کے بعض ملازمین کی سرپرستی میں کنڈا مافیا پورے شہر میں سرگرم ہے جس کا بوجھ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ اراکین نے الزام عائد کیا کہ ترسیلی نظام پر قابض کے الیکٹرک شہریوں کو بنیادی سہولت دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک اسمبلی نے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔