Jang News:
2026-06-03@04:47:53 GMT

پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ 3 دفعہ انگیج رہیں: شیر افضل مروت

اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT

پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ 3 دفعہ انگیج رہیں: شیر افضل مروت

سابق رہنما پی ٹی آئی شیر افضل مروت---فائل فوٹو

 رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ تین دفعہ انگیج رہیں، پارٹی نے فائدہ نہیں اٹھایا۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف میں تین پریشر گروپس ہیں، علی امین گنڈاپور کے خلاف بانیٔ پی ٹی آئی کے کان بھرے جا رہے ہیں۔

کوئی ایسا ہے جو پارٹی کے لیے باہر نکلے؟ شیر افضل مروت

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ آج کل تو ہم ملنگ بنے ہوئے ہیں، ہم آزاد منش بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسد قیصر اور وزیرِ اعلیٰ کے درمیان اختلافات انتخابات سے پہلے کے ہیں، اختلافات کی ایک وجہ علی امین سے پارٹی کی صوبائی صدارت واپس لینا ہے، علی امین گنڈاپور کو اعتماد میں لیے بغیر صوبائی صدارت سے ہٹایا گیا۔

شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں پارٹی تنظیم نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی ہمیشہ غیر متوقع فیصلے کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شیر افضل مروت پی ٹی آئی

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز رات 9، ریسٹورنٹ 11 بجے تک کھلیں گے
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا