پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللّٰہ بابر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے شکایت اور الزامات کا ریکارڈ مانگ لیا۔

ایف آئی اے نے شہری کی شکایت پر پی پی رہنما فرحت اللّٰہ بابر کو نوٹس بھیجا تھا، جس پر اپنے تحریری جواب میں سینئر سیاستدان نے شکایت اور الزامات کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔

پی پی رہنما فرحت اللّٰہ بابر کو ایف آئی اے نے 28 مارچ کو نوٹس کے ذریعے طلب کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ شہری نے فرحت اللّٰہ بابر پر ٹیکس چوری اور بدعنوانی کے الزامات لگائے ہیں۔

فرحت اللّٰہ بابر نے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا کہ جن الزامات کی انکوائری کی جارہی ہے، اُن سے متعلق ایف آئی اے نوٹس میں فہرست یا دستاویزات نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی قانونی حقوق کی خلاف ورزی کے باوجود میں طلبی پر ایف آئی اے پیش ہوا، مجھ سے ٹیکس، آمدن اور اثاثہ جات سے متعلقہ دستاویزات جمع کروانے کا کہا گیا۔

پی پی رہنما نے یہ بھی کہا کہ اثاثہ جات کے گوشوارے اور وہ تمام دستاویزات دی جائیں، جن کی بنیاد پر شکایت کی گئی، طویل عرصے سے کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں، بتایا جائے کون سے عہدے کا ناجائز استعمال کیا۔

فرحت اللّٰہ بابر نے کہا کہ جس انداز میں انکوائری بڑھائی جا رہی ہے، وہ بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، یہ انکوائری ناقابلِ جواز ہے اور اس کے ختم کیے جانے کی درخواست کرتا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے فرحت الل

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا