مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے جبکہ معدنیات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت میں ابھی سرمایہ کاری کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ بننے والے مزمل اسلم کون ہیں؟

رہنما پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کے ہمراہ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں منرلز اور مائنز کے حوالے سے اگر کوئی مالا مال ہے تو وہ خیبرپختونخوا ہے تو یہ صوبہ غریب کیوں ہے ہم اپنی معدنیات کو بیچ کر مالا مال ہوں گے۔

 https://Twitter.

com/ahmad__bobak/status/1910243259080712206

’کوئی بھی دھات جو اس وقت کسی بھی صوبے میں پائی جاتی ہے تو سب خیبرپختونخوا میں بھی پائی جاتی ہیں، جیسے کوئلہ اگر سندھ میں ہے تو کے پی میں بھی ہے، تانبا اور سونا بلوچستان میں ہے تو یہاں بھی ہے، گرینائٹ اور ماربل اگر گلگت میں ہے تو یہاں بھی ہے، ہم ان تمام قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔‘

مزمل اسلم کا موقف تھا کہ آج تک خیبرپختونخوا کے قدرتی وسائل یعنی معدنیات اور کان کنی کے شعبے  کا درست استعمال نہیں کیا گیا، یہ دونوں شعبے خیبرپختونخوا کو اپنے پیروں پر کھڑا کرسکتے ہیں اور اسے کہاں سے کہاں لے جاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کے 6 فلیگ شپ منصوبے کون سے ہیں؟

مزمل اسلم کے مطابق معدنیات کے حوالے سے تمام چیزیں ابھی تک مفاہمتی یادداشتوں کی حد تک ہی ہیں، بعد میں مائنز اینڈ منرلز سب صوبوں کا معاملہ ہے، اب ہمیں اپنے وسائل اور اس کی استعداد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان پریس کانفرنس رہنما پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم قدرتی وسائل مزمل اسلم معدنیات منرلز اور مائنز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان پریس کانفرنس رہنما پی ٹی ا ئی شیخ وقاص اکرم قدرتی وسائل معدنیات منرلز اور مائنز قدرتی وسائل کے حوالے سے

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔

ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش