زیر زمین ‘وائٹ ہائیڈروجن’ کے قدرتی ذخائر کی تلاش جاری، کیا بالآخر صاف ایندھن دستیاب ہوگیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
دنیا بھر میں توانائی کے ماہرین اور سرمایہ کار قدرتی طور پر پیدا ہونے والی ‘سفید ہائیڈروجن’ کو اگلی بڑی توانائی دریافت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
جس طرح 1859 میں امریکا کے ایڈون ڈریک نے زیر زمین تیل دریافت کرکے توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا تھا، اسی طرح سائنس دان اور کمپنیاں اب زمین کے نیچے چھپے ہائیڈروجن کے ذخائر تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’معاشی خود انحصاری کا انحصار پانی و توانائی کے ذخائر پر ہے‘، وزیراعظم کا دیامر بھاشا ڈیم کی فوری تکمیل کا حکم
سفید یا قدرتی ہائیڈروجن زمین میں اس وقت بنتی ہے جب پانی آئرن سے بھرپور چٹانوں سے ردعمل کرتا ہے۔ یہ ہائیڈروجن اکثر زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے مختلف کیمیائی یا حیاتیاتی عمل میں ضائع ہو جاتی ہے لیکن بعض اوقات کم رسنے والی چٹانوں جیسے شیل یا نمک کے نیچے محفوظ رہ جاتی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق زمین کے اندر تقریباً 5.
فرانس، امریکا، آسٹریلیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں پہلے ہی قدرتی ہائیڈروجن کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ فرانس کی کمپنی مینٹل8 نے نئی 4ڈی امیجنگ ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کی مدد سے زمین کے اندر ہائیڈروجن کے ذخائر کی درست نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے: چاند پر موجود پانی کو صاف کرنے کے لیے اہم اقدام؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفید ہائیڈروجن توانائی کا کم کاربن خارج کرنے والا ذریعہ بن سکتی ہے لیکن اس کے ماحول پر ممکنہ اثرات، جیسے میتھین کے اخراج اور زمینی مائیکروبس پر اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہائیڈروجن کے ذخائر تلاش کرنا اور انہیں صنعتی پیمانے پر نکالنا ایک طویل اور مہنگا عمل ہے جس میں کم از کم ایک دہائی لگ سکتی ہے۔
اس کے باوجود سرمایہ کار اور توانائی ماہرین اسے صاف توانائی کے انقلاب کا ممکنہ ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جس سے مشکل صنعتی شعبوں جیسے اسٹیل اور کھاد سازی کو ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایندھن صاف توانائی ہائیڈروجین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایندھن صاف توانائی ہائیڈروجین توانائی کے کے ذخائر سکتی ہے
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔