روز ویلٹ ہوٹل نجکاری، شہریت یافتہ کمپنی کا مشیر کی ذمہ داری سے دستبرداری کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت کی جانب سے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے مقرر کی گئی مالیاتی مشیر عالمی شہرت یافتہ رئیل اسٹیٹ سروسز فرم جونز لینگ لاسالے نے مفادات کے ممکنہ تصادم کے باعث اس ذمہ داری سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
نج کاری کمیشن کے مطابق روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیر کے طور پر خدمات انجام دینے والی عالمی شہرت یافتہ رئیل اسٹیٹ سروسز فرم "جونز لینگ لاسالے" (جے ایل ایل)نے مفادات کے ممکنہ تصادم کے باعث اس ذمہ داری سے دستبردار ہونے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔
جے ایل ایل نے اپنی خط و کتابت میں کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ وہ دوران خدمات حاصل کی گئیں تمام رقوم واپس کرنے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ جے ایل ایل کو جنوری 2024 میں ایک مسابقتی عمل کے ذریعے روزویلٹ ہوٹل نیویارک کی ممکنہ نج کاری پر حکومت پاکستان کو مشورہ دینے کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور اپنی ذمہ داری کے دوران جے ایل ایل نے ہوٹل کی جانچ پڑتال مکمل کی اور بین الاقوامی معیار اور مارکیٹ کی صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے متعدد ممکنہ نج کاری ماڈلز پر مشتمل رپورٹس بھی تیار کیں۔
جے ایل ایل کے مطابق نیویارک سٹی کے ساتھ روزویلٹ ہوٹل کی لیز معاہدے کی منسوخی کے بعد ان کے متعدد کلائنٹس نے ہوٹل میں گہری دلچسپی ظاہر کی، جس کے باعث فرم ایک ممکنہ تضاد مفادات کی صورت حال سے دوچار ہو گئی۔
کمپنی نے کہا کہ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے جے ایل ایل نے اس ذمہ داری سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی بھی حقیقی یا تاثر پر مبنی مفاداتی ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔
نج کاری کمیشن نے اس اہم پیش رفت کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر نئے مالیاتی مشیر کی تقرری کا عمل تیز رفتاری سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ روزویلٹ ہوٹل کی نج کاری کا عمل شفاف اور مسابقتی انداز میں جاری رکھا جا سکے اور پہلے سے مکمل شدہ تیاریوں کی بنیاد پر آگے بڑھا جا سکے۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان اور پرائیویٹائزیشن کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کی جاری نج کاری کا عمل جلد از جلد تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روزویلٹ ہوٹل کی جے ایل ایل نے نج کاری کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔