راولپنڈی(نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ آئین پاکستان، عدالتی احکامات اور جیل مینوئل کی دھجیاں اڑ رہی ہیں، جیل انتظامیہ کو بھجوائے گئے ناموں کے باوجود ہماری ملاقات نہیں کرائی گئی، پولیس اہلکار خود کو ریاست سے بڑا سمجھنے لگے ہیں، چیف جسٹس سے پھر کہتا ہوں اپنے احکاماتِ پر عمل کروائیں ورنہ آپ کی کوئی حیثیت نہیں رہے گئی۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہمارے نام جیل سپرنٹینڈنٹ کو آئے ہوئے تھے، یہاں اسٹاف کالج فیل کوئی افسر بیٹھا ہوا ہے، ہمارے پارٹی لیڈرز کو روکا گیا، جیل کے اندر سے کہا گیا کہ سب کو اکٹھا ہونے دیں پھر اجازت دیں گے۔

عمر ایوب نے کہا کہ ایس پی صدر نے آئی جی پنجاب اور انٹیلی جنس افسران کے حکم پر توہین عدالت کی، پولیس اہلکار خود کو ریاست سے بڑا سمجھتے ہیں، پولیس ریاست کا اوزار ہے، ان کے دماغ پر نشہ چڑھا ہوا ہے، خود کو ریاست سے اوپر سمجھتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عثمان انور کرپٹ ترین آئی جی پنجاب ہے اس کا چھوٹا چیلا ایس پی صدر نبیل ہے، خود کو ریاست سے اوپر سمجھتے ہیں، اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ عمران ریاض اور ہیڈ محرر زبیر نے عدالتی احکامات وصول کرنے سے انکار کیا، جیل عملے نے بتایا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے احکامات ہیں کہ ہم نے کوئی آرڈر وصول نہیں کرنے۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کو یہاں زد و کوب کیا گیا، حامد رضا، شفقت اعوان، طیبہ راجہ، عالیہ حمزہ کو یہاں سے گرفتار کیا گیا، ہمارے لوگوں کوغیرقانونی طورپرحراست میں رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اردلی نمبر ون ہے، بوٹ پالش کرنے کے چکر میں منرلزکانفرنس کر رہا ہے، پولیس کے لوگوں کے غیر قانونی آرڈرز پر عمل کیا، مزلز کانفرنس کرنے جا رہے ہیں کون سرمایہ کاری کرے گا جہاں آئین و قانون نہیں، ان لوگوں نے عدالتی نظام کو ہوسٹیج کیا ہوا ہے، چیف جسٹس کو کہتا ہوں اپنے احکامات پر عمل درآمد کروائیں، ورنہ آپکی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔

عمر ایوب کا مزید کہنا تھاکہ پولیس افسران آپ کے احکامات کو بوٹ کی نوک پر رکھتے ہیں، بہتر ہے آپ استعفی دیے بغیر گھر چلے جائیں، مذاکرات کی باتیں کی جاتی ہیں کیا شہباز شریف، مریم نواز سے مذاکرات کریں، وزیر اعلی بلوچستان سے مذاکرات کریں آخر ان کے پلے کیا ہے، ہم آئین وقانون پر عمل کرتے رہیں گے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملکی معاشی حالت یہ ہے کہ روپے کی قدر گرنے سے ملک پر 14 ہزار 550 ارب روپیہ کا قرضہ بڑھ گیا اور سبب محسن نقوی، انوار کاکڑ، شہباز شریف ہیں، پارٹی کے لوگوں میں اختلافات پر ہم بیشک کبڈی کریں لیکن باقیوں کو اس سے کیا؟ یہ واضح ہے ہم سب ایک لیڈر کے پیچھے متحد ہیں، یہ ہمارا پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، ہمارا اس وقت ایک ہی مقصد ہے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت گرفتار لیڈرز کی رہائی ملے۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ میرے خلاف آج اسلام آباد، سرگودھا، گوجرانوالہ کی اے ٹی سیز میں مقدمات لگے ہوئے تھے، کیا میرے پاس سلیمانی ٹوپی تھی جو ایک ہی وقت میں ہر جگہ پہنچتا، دنیا کیا اندھی بیٹھی ہوئی ہے، سب سے پہلے چیز یہ ہے کہ سرمایہ کاری سے قبل ملک میں قانون کی حکمرانی دیکھیں، یہاں جیل مینوئل، آئین پاکستان عدالتی احکامات کہ دھجیاں اڑ رہی ہیں، الحمدللہ جدھرمیں ہوں ادھر صحیح ہوں۔

4 اکتوبر احتجاج پر درج مقدمات میں عمر ایوب کی 9 کیسز میں ضمانت کنفرم
دوسری جانب اسلام آباد کی انسدادد ہشت گردی عدالت نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے خلاف 4 اکتوبر احتجاج پر درج 9 مقدمات میں 5، 5 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی جبکہ ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج نے پولیس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا یہ نوابوں کی طرح آتے ہیں، میں آئی جی یا ڈی جی کا ملازم نہیں ہوں

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی جبکہ پی ٹی آئی رہنما اپنے وکلاء سردار محمد مصروف، آمنہ علی ودیگر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

تفتیشی کی جانب سے مقدمہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کیا گیا، ریکارڈ پیش نہ کرنے پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا یہ کیا لوہے کے بنے ہوئے ہیں، ریکارڈ ہی نہیں آتا، جب ریکارڈ کا کہیں کبھی کوئی بہانہ کبھی احتجاجی ڈیوٹی، اگر 20 منٹ تک ریکارڈ نہیں آتا تو ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کردوں گا۔

عدالت نے ریکارڈ کے آنے تک کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا، سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ ریکارڈ تفتیشی نے لے کر آنا ہے وہ ابھی تک نہیں آیا، جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ یہ نوابوں کی طرح آتے ہیں میں ان کا ملازم نہیں ہوں۔

عدالت نے عمر ایوب کی تمام 9 مقدمات میں ضمانت کنفرم کر دی اور 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانت کی درخواستیں منظور کیں۔

یاد رہے کہ عمر ایوب کے خلاف تھانہ شہزاد ٹاؤن، ترنول، کوہسار 3، نون 2، آبپارہ اور تھانہ مارگلہ میں مقدمات درج ہیں۔
مزیدپڑھیں:کچھ امیدیں زندہ رکھنا چاہتا ہوں شاید ایک موقع اور مل جائے، سرفراز احمد

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی رہنما عدالتی احکامات خود کو ریاست سے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عمر ایوب عدالت نے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی