حجاب کیوجہ سے غیر مسلم طالبہ کا کاسٹ سرٹیفکیٹ تین بار مسترد کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
طالبہ کا کہنا ہے کہ سر پر دوپٹہ رکھنا یا سر ڈھکنا بھارتی ثقافت کا حصہ ہے، میں نے اپنے آپکو گرمی سے بچانے کیلئے اسکارف پہن رکھا تھا۔ تصویر میں چہرہ صاف نظر آرہا تھا، پھر بھی اسکارف کو بنیاد پر درخواست رد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے ضلع علی گڑھ میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہیما کشیپ نام کی ایک ہونہار طالبہ کو نیٹ (NEET) کے امتحان سے صرف اس لئے محروم ہونا پڑا کیوں کہ سر پر اسکارف پہننے کی وجہ سے تحصیل کے ملازمین نے اس کا کاسٹ سرٹیفکیٹ تین بار مسترد کر دیا۔ طالبہ کے مطابق اس نے درخواست کے ساتھ جو فوٹو منسلک کی تھی اس میں سر پر اسکارف پہن رکھا تھا۔ ہیما کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی بار آن لائن درخواست دی تھی، لیکن کوئی واضح وجہ بتائے بغیر اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ جب دوسری بار درخواست دی گئی تو تصویر میں ہیڈ اسکارف کو وجہ بتاتے ہوئے درخواست پھر سے مسترد کر دی گئی۔
تیسری بار اسکارف کے بغیر درخواست دی لیکن پھر بھی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کی گئی۔ یہ معاملہ علی گڑھ کی تحصیل اترولی کے منظور گڑھی گاؤں کی ہیما کشیپ کا ہے۔ ہیما نے نے او بی سی سرٹیفکیٹ کے لئے تین بار درخواست دی اور تینوں بار مسترد کر دی گئی۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے ایک سال سے نیٹ (NEET) امتحان کی تیاری کر رہی ہیں، لیکن او بی سی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ امتحان کا فارم نہیں بھر سکیں۔ ہیما کا کہنا ہے کہ سر پر دوپٹہ رکھنا یا سر ڈھکنا بھارتی ثقافت کا حصہ ہے۔ میں نے اپنے آپ کو گرمی سے بچانے کے لئے اسکارف پہن رکھا تھا۔ تصویر میں چہرہ صاف نظر آرہا تھا، پھر بھی اسکارف کو بنیاد پر درخواست رد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
تحصیل ملازمین کا کہنا تھا کہ تصویر میں سر پر اسکارف نہیں ہونا چاہیئے تھا، اس لئے درخواست مسترد کر دی گئی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تیسری درخواست میں دوپٹہ کے بغیر تصویر منسلک کی گئی تو اس کے باوجود درخواست کیوں مسترد کی گئی۔ ہیما نے خط لکھ کر ضلع مجسٹریٹ سنجیو رنجن سے شکایت کرتے ہوئے قصوروار ملازمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ سنجیو رنجن نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جانچ کا حکم دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہیما نے ریاست کے وزیراعلٰی سے بھی اپیل کی ہے کہ اس طرح کی لا پرواہی اور امتیازی رویہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ درخواست دی تصویر میں
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔