اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 10 جولائی 2025ء ) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی تحریک کا مقصداگر عمران خان کی رہائی ہے تو تحریک کامیاب نہیں ہوگی،پی ٹی آئی کو پہلے کے پی حکومت پر توجہ دینی چاہیئے،پی ٹی آئی سے نہ اپوزیشن ہورہی اور کے پی حکومت ٹھیک چل رہی ہے، سیاسی انتشار ختم ہوگا تو عمران خان کا بھی حل نکل آئے گا۔

انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی کے معاملے پر کرپشن کا الزام لگانا مشکل کام ہے لیکن ناہلی ضرور شامل ہے، چینی پاکستان میں ایکسپورٹ ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب چینی امپورٹ کی بات ہورہی ہے تو ساتھ میں کرشنگ کا سیزن بھی آگیا ہے، اس کا مطلب کوئی سٹاک نہیں تھا۔چینی جب بھی ایکسپورٹ کی جاتی ہے تو پہلے یقینی بنایا جاتا ہے کہ چینی کا اضافی اسٹاک موجود ہو، تاکہ قیمت بڑھے تو مارکیٹ میں چینی ریلیز کردی جائے۔

(جاری ہے)

اس کا مطلب ہے کہ چینی بالکل موجود نہیں ہے، آج مہینہ پڑا ہوا ہے جب تک امپورٹ والی چینی آئے گی تو ملک کی اپنی بھی آجائے گی۔ چینی کی ملز کی اکثریت سیاسی جماعتوں کی ہے، جب پالیسی سے چینی کی قیمت بڑھتی ہے تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ فائدہ کس کو ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو تحریک چلانے کی ضرورت ہوتی ہے، ملک میں کوئی نظام نہیں چل رہا ہے، ملک میں غریب ہر سال غریب سے غریب ہوتا گیا۔

کوئی پالیسی نہیں ہے سیاسی انتشار ہے۔ اس میں تحریک کی گنجائش رہتی ہے، پی ٹی آئی کا تحریک کا مقصد عمران خان کو جیل سے نکالنا ہے، اگر یہ مقصد ہے تو تحریک کامیاب نہیں ہوگی، تحریک چلانے میں ملک کی بات ہونی چاہئے، جب ملک میں آئین قانون کی بالادستی کی بات ہوگی اور انتشار ختم کرنے کی بات ہوگی عمران خان کا بھی حل نکل آئے گا، اگر مقصد سڑکوں پر دباؤ ڈال کر عمران خان کو نکالنا ہے تو تحریک کامیاب نہیں ہوگی۔

سیاسی جماعتوں کا آئین قانون کی بالادستی پراتفاق پیداہوسکتا ہے، آج پی ٹی آئی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے، ان کے پاس حکومت بھی ہے، پی ٹی آئی کو پہلے حکومت پر توجہ دینی چاہیئے، تحریک بعد میں چلائیں۔ پی ٹی آئی سے نہ اپوزیشن ہورہی اور کے پی حکومت ٹھیک چل رہا ہے، دونو ں میں ناکام نظر آتے ہیں۔لوگ پوچھیں گے تحریک میں کامیاب ہوں تو اقتدار میں آکر ہمیں کیا دیں گے اس کا ا ن کے پاس جواب نہیں ہے۔.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پی ٹی آئی کی بات

پڑھیں:

خالد خورشید حکومت گرانے سے متعلق گورنر کے بیان پر تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آ گیا

علی تاج نے کہا کہ گورنر کے اعتراف کے بعد وہ تمام سیاسی، انتظامی اور پسِ پردہ کردار بالخصوص امجد ایڈووکیٹ اورُ حفیظ الرحمن جو اس افسوسناک فیصلے، اس غیرقانونی مداخلت اور عوامی مینڈیٹ کی توہین میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ شریک رہے، انہیں خالد خورشید سے سرِعام معافی مانگنی چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کے رہنما و سابق ترجمان وزیر اعلیٰ علی تاج نے ایک بیان میں خالد خورشید حکومت کے گرائے جانے کے بارے میں گورنر سید مہدی شاہ کے بیان پر اہم ردعمل میں کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی حکومت گرانے سے متعلق گورنر مہدی شاہ کے حالیہ بیان نے اس پورے عمل کی حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔ اس اعتراف کے بعد وہ تمام سیاسی، انتظامی اور پسِ پردہ کردار بالخصوص امجد ایڈووکیٹ اورُ حفیظ الرحمن جو اس افسوسناک فیصلے، اس غیرقانونی مداخلت اور عوامی مینڈیٹ کی توہین میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ شریک رہے، انہیں خالد خورشید سے سرِعام معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض سیاسی زیادتی نہیں تھا بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے مینڈیٹ، جمہوری اقدار اور آئینی حق پر براہِ راست حملہ تھا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اس ظلمِ عظیم کا ازالہ کیسے ہوگا؟ ازالہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ تمام غیرضروری قانونی رکاوٹیں ہٹا کر شفاف، غیرجانبدار اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں، تاکہ عوام کو دوبارہ یہ حق مل سکے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنا مینڈیٹ پی ٹی آئی اور خالد خورشید کو واپس سونپ سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • یاسین ملک کی رہائی کے لئے ترک پروڈیوسر نے گیت ریلیز کر دیا
  • تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے
  • کیا پی ٹی آئی کارکنان کی عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں؟
  • بانی پی ٹی آئی جیل سے ہی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے خواہاں ہیں: رانا ثناء اللہ
  • جیل قانون کے مطابق سپیریئر قیدی کو سیاسی ملاقاتوں کی اجازت نہیں، بیرسٹر عقیل ملک
  • عمران خان سے ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو نہیں ہونی چاہیے، رانا ثنااللہ
  • پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ اور غلط ترجیحات ترک کرکے ریاست اور عوام کا مفاد مقدم رکھے، عطا تارڑ
  • مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟
  • میانمر : فوجی حکومت کا ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا اعلان
  • خالد خورشید حکومت گرانے سے متعلق گورنر کے بیان پر تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آ گیا