عمران خان کو ان کے بچے اور بہنیں رہائی نہیں دلوا سکتے: سینیٹر عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچے اور ان کی بہنیں رہائی نہیں دلوا سکتے، عمران خان کی رہائی خود ان پر منحصر ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنے بچوں کو سیاست میں لانا چاہتے ہیں، ان کے بچے ضرور پاکستان آئیں، تحریک چلانا چاہتے ہیں تو چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بچے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں تو اعتراض نہیں، ان کے بچوں کے آنے سے کوئی طوفان نہیں آئے گا، خیبرپختونخوا میں حکومت تبدیل نہیں ہو رہی۔
’خاندانی اور معاشرتی نظام بکھر رہا ہے‘، حرا ترین کا حمیرا اصغر اور عائشہ خان کی موت پر دکھ کا اظہار
ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں، انہوں نے حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہیں کیں وہ مدبر شخص ہیں، پیپلز پارٹی ہماری اتحادی ہے ہم کیوں اس نظام کو درہم برہم کرنا چاہیں گے؟
سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے باہر سے چینی منگوائی گئی، حکومت عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی ان کے بچے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔