معروف فلمساز جامی کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں 2 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
معروف فلم ساز جمشید محمود رضا عرف "جامی” کو 2019 میں ساتھی ہدایتکار سہیل جاوید کی ہتکِ عزت کرنے کے الزام میں 2 سال قید کی سزا سنا دی۔
سیشن عدالت نے جامی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500 (ہتکِ عزت) کے تحت مجرم قرار دیا اور ان پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
جامی کے وکیل نے تصدیق کی کہ عدالت کے فیصلے کے بعد فلمساز کو احاطۂ عدلت سے حراست میں لے کر کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ اس خط سے متعلق تھا جو جامی نے 2019 میں لاہوتی میلے کے دوران پڑھ کر سنایا اور بعد ازاں اسے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ بھی کیا۔
یہ خط ایک نامعلوم خاتون متاثرہ کی جانب سے لکھا گیا تھا جس میں ایک معروف شخصیت پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
گو کہ اس خط میں کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا نہ ہی جامی نے اپنی پوسٹ میں کسی کا نام ذکر کیا۔
تاہم سہیل جاوید کا مؤقف تھا کہ جامی کی فیس بک پوسٹ کے تبصروں میں متعدد افراد نے اندازہ لگایا کہ یہ الزام ان پر ہے اور جامی نے نہ تو تردید کی اور نہ ہی کسی وضاحت کے ذریعے اس قیاس آرائی کو روکا۔
جامی نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ یہ خط انہیں لاہوتی میلے کے منتظمین نے دیا تھا اور انھوں نے اسے بغیر دیکھے پڑھ دیا۔
تاہم، عدالت نے قرار دیا کہ جامی نہ تو خط کے مصنف کو پیش کرسکے اور نہ ہی منتظمین سے کوئی رابطے کا ثبوت یا ایسا کوئی معتبر ثبوت پیش کیا جس سے ثابت ہو کہ وہ خط کے مندرجات سے پہلے سے آگاہ نہیں تھے۔
عدالت نے اسی بنیاد پر جامی کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔