سندھ ہائیکورٹ نے فلمساز جامی کی سزا کالعدم قرار دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے فلم پروڈیوسر رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی کی سزا کیخلاف اپیل پر ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی۔
رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں فلم پروڈیوسر رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ اپیل کنندہ کے وکیل حافظ محمد یحییٰ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ڈائریکٹ کمپلین پر جرم ثابت ہونے پر جمشید محمود عرف جامی کو 2 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
وکیل نے موقف اپنایا کہ جمشید محمود عرف جامی کو جس جرم میں سزائے سنائی گئی ہے وہ قابل ضمانت ہیں۔ ماتحت عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کو سنائی گئی سزا میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیئے۔ جمشید محمود عرف جامی پر لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کالعدم قرار دی جائے۔
عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کو ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی بھی سزا معطل کردی۔
یاد رہے کہ جمشید محمود عرف جامی کیخلاف فلم، میوزک ڈائریکٹر سہیل جاوید نے ڈائریکٹ کمپلین دائر کی تھی۔ درخواستگزار کے وکیل کے مطابق جمشید محمود عرف جامی کو آج جیل سے رہا کردیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جمشید محمود عرف جامی کو جمشید محمود عرف جامی کی کی سزا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔