نادرا نے ڈاکخانوں میں قائم شناختی کارڈ فراہمی کے کاونٹرز بند کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
نادرا نے تین سال قبل عوام تک کلیدی خدمات کی رسائی آسان بنانے کیلئے یہ قدم اٹھایا تھا، جس میں قومی شناختی کارڈ کی تجدید، ایڈریس اپ ڈیٹ اور ازدواجی حیثیت میں تبدیلیوں سمیت دیگر سہولتیں شامل تھیں۔ اس مقصد کیلئے نادرا نے پاکستان پوسٹ کیساتھ 10 سالہ معاہدے کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں کے جی پی اوز میں مخصوص کانٹرز قائم کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ نادرا نے ملک بھر میں پوسٹ آفشز میں شناختی کارڈ سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سروس کے کم استعمال اور عوامی آگاہی نہ ہونے کے باعث کیا گیا۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے پاکستان بھر کے جنرل پوسٹ آفسز میں شناختی کارڈ سے متعلق خدمات کو باضابطہ طور پر بند کردی ہیں۔ یہ فیصلہ عوام کے کم استعمال اور وسیع پیمانے پر آگاہی کی کمی کے باعث کیا گیا۔ نادرا نے تین سال قبل عوام تک کلیدی خدمات کی رسائی آسان بنانے کیلئے یہ قدم اٹھایا تھا، جس میں قومی شناختی کارڈ کی تجدید، ایڈریس اپ ڈیٹ اور ازدواجی حیثیت میں تبدیلیوں سمیت دیگر سہولتیں شامل تھیں۔ اس مقصد کیلئے نادرا نے پاکستان پوسٹ کیساتھ 10 سالہ معاہدے کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں کے جی پی اوز میں مخصوص کانٹرز قائم کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اہم خدمات کی فراہمی اور نادرا کے مرکزی سروس سینٹرز میں رش کو کامیابی سے کم کرنے کے باوجود، یہ اقدام قابل ذکر توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ عہدیداروں نے پروگرام کی محدود رسائی کی وجہ ناکافی عوامی بیداری کو قرار دیا۔ سروس کے خاتمے کے اعلان کیساتھ نادرا نے جی پی اوز میں تعینات تمام عملے کو سامان اور جمع شدہ سروس فیس کی رقوم واپس جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ ڈیلیوری کیلئے تیار قومی شناختی کارڈز والے درخواست دہندگان کو ترجیح دی جا رہی ہے کہ وہ کاونٹرز کی حتمی بندش سے پہلے اپنی دستاویزات حاصل کرلیں، اس فیصلے سے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں تقریبا 83 کانٹرز متاثر ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شناختی کارڈ
پڑھیں:
ٹانک میں دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 12 خوارج ہلاک، 15 جوان شہید
راولپنڈی:ٹانک میں دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر باردو سے بھری گاڑی ٹکرادی، نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکار شہید ہوگئے، جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ 'فتنہ الخوارج' کے دہشت گردوں نے 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب ضلع ٹانک میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بزدلانہ حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کے سیکیورٹی حصار کو توڑنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز کے مستعد اور فوری ردعمل نے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا، سیکیورٹی اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے خوارج کو نشانہ بنایا اور بارہ خوارج کو ہلاک کر دیئے۔
اسی دوران حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، دھماکے کی شدت سے چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں وطن کے پندرہ بہادر سپوت شہید ہوگئے جن میں فوج کے بارہ جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری عہدیدار شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ علاقے میں موجود کسی بھی ممکنہ خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پرعزم ہیں، بہادر جوانوں کی یہ قربانیاں ہمارے غیر متزلزل عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔