لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ شفاف انتخابات اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں لوگ اغواء نہ ہوں، یہ سب ہمارا نصب العین ہے، اگر کوئی بات آگے بڑھتی ہے جس میں شخصی آزادیاں اور بنیادی حقوق کو بحال کیا جاتا ہے تو سو بسم اللہ۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کا میرے علم میں نہیں، اعظم سواتی نے اپنے طور پر بات کی۔ لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی بات اعظم سواتی اپنے طور پر کہہ رہے ہیں، جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بات نہیں ہوتی تب تک کچھ نہیں کہہ سکتے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران سے ملاقات ہوگی تو صورت حال واضح ہو گی اسی لیے بانی پی ٹی ائی سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی تاکہ ابہام برقرار رہے، ملاقات کے بعد پتا چلے گا کہ انہوں نے کسی کو مذاکرات کا کہا ہے یا نہیں۔

سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ شفاف انتخابات اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں لوگ اغواء نہ ہوں، یہ سب ہمارا نصب العین ہے، اگر کوئی بات آگے بڑھتی ہے جس میں شخصی آزادیاں اور بنیادی حقوق کو بحال کیا جاتا ہے تو سو بسم اللہ لیکن اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کریں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے راہنما اعظم خان سواتی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان اب بھی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہیں، اگر اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو انہیں پی ٹی آئی کے بانی کی آشیرباد حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف