وزیراعلیٰ سندھ کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کریک ڈاؤن کی رپورٹ پیش
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
فائل فوٹو۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
اس سلسلے میں ٹریفک پولیس نے 4 تا 14 اپریل 2025 تک کی پیش رفت رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق دوران کریک ڈاؤن 7860 موٹرسائیکلیں ہیلمٹ نہ پہننے اور دیگر قوانین کی خلاف ورزیوں پر ضبط کی گئیں۔
فینسی نمبر پلیٹس اور کالے شیشے لگانے والی 596 گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ اسی طرح 193 ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکلز (ڈمپرز اور ٹینکرز) کا فٹنس مسائل اور مقررہ رفتار سے تجاوز کرنے پر چالان کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 25 بڑی و چھوٹی گاڑیوں کی رجسٹریشن مکمل طور پر منسوخ کرنے جبکہ 144 گاڑیوں کی رجسٹریشن عارضی طور پر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کےلیے ٹریفک قوانین کا نفاذ سختی سے یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور فینسی نمبر پلیٹس اور کالے شیشے استعمال کرنے والوں کا فوری چالان کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کمرشل ہیوی گاڑیوں کی رفتار شہر میں 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان فِٹ اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، یہ اقدامات عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہیں اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کے خلاف
پڑھیں:
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔