اجلاس کو بتایا گیا کہ 114416کشمیری بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں سے 24261 شدید غذائی قلت، 69177 عمومی غذائی قلت اور 20978 خون کی کمی کے شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک سینئر سرکاری افسر نے ایک اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ علاقے میں 1 لاکھ 14 ہزار سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ بات محکمہ سماجی بہبود کے کمشنر سیکرٹری سنجیو ورما نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری اتل ڈلو کی طرف سے بلائے گئے ایک اجلاس میں بتائی۔ 9 لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد کو سپلیمنٹری نیوٹریشن اسکیم کا حصہ بنایا گیا ہے اور اسکیم سے استفادہ کرنے والوں میں سے 99 فیصد کی تصدیق ہو چکی ہے، اس طرح بدعنوانی کے کسی بھی امکان کو ختم کر دیا گیا۔ ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ سنجیو ورما چیف سکریٹری اٹل ڈلو کی طرف سے جموں و کشمیر میں محکمے کی طرف سے چلائی جا رہی متعدد اسکیموں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے طلب کئے گئے اجلاس کو بریفنگ دے رہے تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 114416کشمیری بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں سے 24261 شدید غذائی قلت، 69177 عمومی غذائی قلت اور 20978 خون کی کمی کے شکار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اجلاس کو

پڑھیں:

بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار

نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم