امریکی پولیٹیکل کونسلر زیک ہارکن رائیڈر کی سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
امریکی پولیٹیکل کونسلر زیک ہارکن رائیڈر کی سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 16 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: امریکی پولیٹیکل کونسلر زیک ہارکن رائیڈر نے سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی اور علاقائی امور سمیت سیاسی اور معاشی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ امریکہ سے اعلیٰ سطحی وفود اور حالیہ دنوں میں امریکی سینیٹرز اور گانگریس مین کی آمد پاکستان کی عالمی اور علاقائی معاملات میں کلیدی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
اس موقع پر سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی روابط کے مزید فروغ کو معاشی اور سٹریٹیجک مقاصد کے حصول کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔