بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: اردو سے دوستی کریں، یہ بھارت کی زبان ہے
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: اردو سے دوستی کریں، یہ بھارت کی زبان ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 17 April, 2025 سب نیوز
نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے ریاست مہاراشٹرا میں میونسپل کونسل کے سائن بورڈز پر اردو زبان کے استعمال کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ اردو کو سائن بورڈ پر استعمال کرنا قانونی اور درست ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ سرکاری بورڈز پر صرف مراٹھی زبان لکھی جانی چاہیے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر علاقے میں اردو بولنے والے شہری موجود ہیں تو مراٹھی کے ساتھ اردو کا استعمال کوئی مسئلہ نہیں۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے دوران سماعت کہا کہ اردو ایک موثر رابطے کی زبان ہے اور یہ بھارت کی اپنی زبان ہے۔ بینچ نے کہا: “اردو سے دوستی کریں، یہ نئی زبان نہیں، یہیں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور پروان چڑھی ہے۔”
یاد رہے کہ ایک خاتون نے میونسپل کونسل کے بورڈ پر مراٹھی کے ساتھ اردو کے استعمال کو چیلنج کیا تھا، جس پر ممبئی ہائیکورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ زبان ہے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔