ڈیرہ اسماعیل خان : سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 4 خوارجی دہشتگرد ہلاک، ایک اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائی کرکے 4 خوارجی دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کا اہم کارکن گرفتار کرلیا
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارجیوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں 4خوارجی دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔
کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگیا، شہید اہلکار باسط صدیقی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کا پردہ فاش
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران خوارجیوں کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا ہے، ہلاک خوارجی دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
صدر مملکت کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسینصدر مملکت آصف علی زرداری نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اپنے بہادر شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔