روم: ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا دوسرا دور آج اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کیلئے روم پہنچ گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہورہے ہیں۔ 

اس سے قبل دونوں وفود کے درمیان گزشتہ ہفتے عمان میں ملاقات ہوئی تھی جسے فریقین نے "تعمیری" قرار دیا تھا۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حالیہ ہفتوں میں کشیدگی اور سخت بیانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ واشنگٹن نے مذاکرات کے لیے سخت شرائط رکھی ہیں جن میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حکومت نے غیر حقیقی مطالبات رکھے تو مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران ان مذاکرات میں کھلے ذہن کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ نیک نیتی اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ سفارت کاری کو مسائل کے حل کا مہذب طریقہ سمجھتے ہوئے اپنایا ہے اور ایرانی قوم کے اعلیٰ مفادات کا مکمل احترام کیا ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع