پنجاب پولیس کی کچے کے علاقے میں کارروائی، دو مغوی بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
RAHIM YAR KHAN:
پنجاب پولیس نے رحیم یار خان میں کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران دو مغویوں کو بازیاب کروا لیا اور اس دوران دو اغوا کار زخمی ہوگئے۔
ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ کارروائی کے دوران کریمنلز سے بازیاب ہونے والے مغویوں کی شناخت محمد علی اور سیف الرحمان حیدر کے نام سے ہوئی ہے اور دونوں کا تعلق اسلام آباد سے بتایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان پولیس کا کچہ ماچھکہ میں دوران پیٹرولنگ ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا اور دوران غیر مصدقہ طور پر دو ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اغوا کار دونوں مغویوں کو چھوڑ کر کچے کے علاقے میں فرار ہوگئے جبکہ پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔
ڈی پی او رحیم یار خان رضوان عمر گوندل کا کہنا تھا کہ بازیاب مغویوں کے بارے متعلقہ پولیس سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ کاروائی میں بکتر بند گاڑیوں، ایلیٹ کمانڈوز سمیت پولیس کی بھاری نفری نے حصہ لیا، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کامیاب کارروائی پر ڈی پی او رضوان عمر گوندل اور پولیس ٹیم کو شاباش دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب پولیس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔