شادی کی سالگرہ پر ایشوریا رائے کی نئی پوسٹ، طلاق کی افواہیں دم توڑ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
بھارتی خوبرو سپر اسٹار، اداکارہ و کاروباری شخصیت ایشوریا رائے نے اپنی شادی کی 18 ویں سالگرہ کے موقع پر شوہر ابھیشیک بچن کے ساتھ خوبصورت فیملی فوٹو شیئر کیا ہے جس میں ان کی بیٹی آرادھیا بھی ہیں۔
بالی ووڈ انڈسٹری کی یہ خوبصورت جوڑی اکثر اوقات ہی علیحدگی اور طلاق جیسی خبروں میں گھری رہتی ہے، ایشوریا رائے کی نئی پوسٹ نے ان تمام خبروں کو جھوٹا ثابت کر دیا۔
ایشوریا رائے بچن اور ابھیشیک بچن جو بالی ووڈ کے سب سے باوقار جوڑوں میں سے ایک ہیں، نے 20 اپریل 2025ء کو اپنی شادی کی 18 ویں سالگرہ منائی۔
View this post on InstagramA post shared by AishwaryaRaiBachchan (@aishwaryaraibachchan_arb)
2007ء میں شادی کرنے والے جوڑے نے اپنی بیٹی آرادھیا بچن کے ساتھ ایک دل کو چھو لینے والی فیملی تصویر شیئر کر کے اپنے مداحوں کو خوبصورت تحفہ دیا ہے۔
ایشوریا رائے کی تصویر میں ان کے شوہر ابھیشیک بچن اور بیٹی آردھیا کو خوش گوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
گزشتہ روز شیئر کی گئی ایشوریا رائے کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس پر مداحوں کی جانب سے پیار اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ابھیشیک اور ایشوریا کے آئندہ پروجیکٹس پر ایک نظر
ابھیشیک بچن آخری بار فلم بی ہیپی میں نظر آئے تھے اور ان کی آئندہ فلم اکشے کمار کے ساتھ ہاؤس فل 5 ہو گی۔
ایشوریا رائے کو آخری بار تیلگو فلم پونیئن سیلوان: II میں دیکھا گیا تھا۔
ایشوریا رائے نے 2024ء کے کانز فلم فیسٹیول میں آرادھیا کے ساتھ شرکت کر کے خوب توجہ حاصل کی تھی۔
شائقین اب اس سال بھی ایشوریا کو کانز فیسٹیول میں دیکھنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایشوریا رائے کی ابھیشیک بچن کے ساتھ
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت