کراچی میں تھانے بھی غیر محفوظ، شہری کی قیمتی 125 موٹر سائیکل چوری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
واردات سے پہلے چور نے ڈیوٹی افسر اور دیگر اہلکاروں سے رپورٹ کرانے کے بہانے سلام دعا بھی کی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں تھانے کے باہر سے شہری کی موٹر سائیکل چوری ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں موٹرسائیکلوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہونے لگا، اب تو تھانے بھی محفوظ نہیں۔ ضلع کورنگی کے الفلاح تھانے میں ملاقات کیلئے آنے والا شہری اپنی قیمتی موٹر سائیکل سے محروم ہوگیا۔ پولیس افسر سے ملنے آئے شہری کی موٹر سائیکل تھانے کے گیٹ سے چوری ہوگئی۔ واردات سے پہلے چور نے ڈیوٹی افسر اور دیگر اہلکاروں سے رپورٹ کرانے کے بہانے سلام دعا بھی کی۔ ایس ایچ او الفلاح راؤ عمیر کے مطابق شاہ فیصل کالونی نمبر 2 کے رہائشی شہری شاہد پرویز کی موٹر سائیکل 20 اپریل کو چوری ہوئی تھی اور متاثرہ شہری نے اپنی ون ٹو فائیو موٹرسائیکل تھانے کے باہر نجی فارم ہاؤس کے گیٹ پر کھڑی کی تھی۔ پولیس نے متاثرہ شہری شاہد پرویز کی مدعیت میں مقدمہ نامعلوم ملزم کے خلاف درج کرکے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی تلاش شروع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔