عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر ایک اور توہین عدالت کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جارہی، ملاقات نہ کرانا عدالت کے احکامات کی توہین کے مترادف ہے، استدعا کی جاتی ہے کہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ بانی پی ٹی آئی سے عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات نہ کرانے کا معاملہ، وفاقی و صوبائی سیکرٹری داخلہ اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف ایک اور توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی۔ سربراہ سنی تحریک صاحبزادہ حامد رضا نے وکیل خالد یوسف چودھری کے ذریعے توہین عدالت درخواست دائر کی، درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے 2 مرتبہ ملاقات کی اجازت دی، تیسری بار لارجر بنچ نے حکم دیا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جارہی، ملاقات نہ کرانا عدالت کے احکامات کی توہین کے مترادف ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے، صاحبزادہ حامد رضا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بائیومیٹرک بھی کروالی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: توہین عدالت کی درخواست میں کے باوجود ملاقات نہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔