رہنما مسلم لیگ ق خواجہ رمیض حسن کی وائس چیئرمین پنجاب اوورسیز پاکستانی کمیشن بیرسٹر امجد ملک سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2025ء) کوآرڈینیٹر برائے وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانی خواجہ رمیض حسن کی وائس چیئرمین پنجاب اوورسیز پاکستانی کمیشن سے لاہور میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ رمیض حسن نے کہا کہ ہمیں اپنے اوورسیز پاکستانیوں پر فخر ہے جو اپنے وطن سے دور رہ کر دیگر ثقافتوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں ل۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی معیشت کی بحالی کے لیے خصوصی کاوشیں ملکی ترقی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وائس چیئرمین پنجاب اوورسیز کمیشن بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ ہم وطن سے دور رہ کر بھی وطن کی بہبود کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔