Express News:
2026-07-24@10:26:20 GMT

انسانیت کے نام پر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

افغانستان کی خاتون صحافی فرشتہ سدید کا تعلق ’ کیسا ‘ صوبہ سے ہے، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ جب افغانستان میں حالات بہتر تھے تو وہ ایک ریڈیو بہار میں کام کرتی تھیں۔ جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا اور کابل میں ان کی حکومت قائم ہوگئی تو طالبان حکومت نے خواتین اور اقلیتوں کو نشانہ بنایا۔ طالبان کی شوریٰ نے فتویٰ دیا کہ خواتین بغیر محرم گھر سے نکل نہیں سکتیں ، خواتین کے لیے ملازمت کرنا مشکل بنا دیا گیا ، یوں فرشتہ سدید کے برے دن شروع ہوگئے۔

انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ کسی طرح جان جوکھوں میں ڈال کر سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوگئیں۔ یہاں فرشتہ اور ان کے اہلِ خانہ نے امریکا اور یورپی ممالک میں سیاسی پناہ لینے کے لیے عرض داشتیں بھجوانی شروع کردیں۔ فرانس کی حکومت نے عرض داشت پر مثبت کارروائی پر اتفاق کیا اور اس بارے میں باقاعدہ دفتری کارروائی شروع ہوگئی۔ چند برس کے بعد حکومت پاکستان نے غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو نکالنے کی پالیسی اختیارکی۔

گزشتہ سال سیکڑوں افغان پناہ گزینوں کو ان کے وطن افغانستان بھیج دیا گیا۔ پھر پاکستان سے واپس وطن جانے کی تاریخ میں توسیع کردی گئی اور جب گزشتہ ماہ رضاکارانہ واپسی کے لیے بڑھائی گئی یہ مدت پوری ہوئی تو اسلام آباد، پنجاب اور سندھ پولیس نے ان پناہ گزینوں کو ٹرانزٹ کیمپوں میں منتقل کرنے کے لیے آپریشن شروع گئے۔ اسلام آباد میں مقیم پناہ گزینوں کی لسٹ میں شامل افغان صحافی بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔ فرشتہ بھی  تین دن تک ٹرانزٹ کیمپ میں قیام پذیر رہی۔ البتہ صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج پر فرشتہ کو کمیپ سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 افغانستان میں جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو شروع شروع میں تو ریڈیو اور ٹیلی وژن اسٹیشن میں خواتین کو کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے ایک وزیر نے ایک خاتون اینکر پرسن کو انٹرویو بھی دیا تھا۔ پھر شاید قندھار گروپ کے رجعت پسندوں نے کابل میں فیصلہ سازی پر بالادستی حاصل کر لی اور ایک دن یہ اعلان ہوا کہ تمام ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن بند کردیے گئے ہیں۔

افغانستان کی مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے صحافی جن میں مرد اور خواتین شامل تھے، حالات سے دلبرداشتہ ہوکر سرحد عبور کر کے اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان پناہ گزینوں نے خود کو اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے دفتر میں رجسٹر کرایا اور امریکا اور یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ امریکا میںجب تک ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں براجمان رہے، تب تک پاکستان میں مقیم پناہ گزین افغان صحافیوں، غیر ملکی این جی اوز میں کام کرنے والے افغان شہریوں اور وہ لو گ جو امریکی اداروں میں کام کرتے تھے، انھیں امریکا کا ویزا دینے کی یقین دہانی کرائی گئی مگر صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اب ان سب کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے۔

ان میں سے کئی وہ ہیں جو امریکا اور برطانیہ کے اداروں میں کام کرتے تھے۔ امریکا کی اس وقت کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس کیٹیگری میں شامل صحافیوں اور دیگر افراد کو امریکا میں آنے کے لیے ویزے دیے جائیں گے ۔ خاصے افراد امریکا چلے بھی گئے مگر اکثریت ابھی تک امریکا اور یورپ جانے کی منتظر ہے، لیکن اب صدر ٹرمپ کی تبدیل شدہ پالیسی نے ان کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں ۔ ایسے افغان پناہ گزین جن میں صحافی بھی شامل ہیں، تاحال اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ گزشتہ مارچ میں افغان پناہ گزین سینئر صحافی محمود کونجی اور ان کے صاحبزادے کو واپس بھیجنے کے لیے پکڑا گیا تھا۔ محمود کونجی نے Onlineویزہ کے لیے درخواست دی ہوئی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے روحِ رواں اقبال خٹک کی قیادت میں افغان جرنلسٹس سالیڈیرٹی نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اقبال خٹک کی تحقیق کے مطابق 300افغان پناہ گزین صحافیوں اور ان کے اہل خانہ یورپی ممالک کے ویزے کے منتظر ہیں، ان کے تمام کاغذات متعلقہ سفارت خانوں میں جمع ہیں مگر ویزہ کا عمل طویل ہونے کی بناء پر وہ تاحال اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ اب وہ بھی مشکلات کا شکار ہیں ۔ بی بی سی نے افغانستان میں خواتین کے حالتِ زار کے بارے میں رپورٹیں تیار کی ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو خواتین تعلیم حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی کا اظہارکرتی ہیں انھیں مدارس میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ایک اور تعلیمی سال لڑکیوں کی تعلیمی اداروں میں موجودگی کے بغیر ختم ہوگیا۔

ایک افغان روشن خیال شخص قاری حامد محمودی نے صحافیوں کو بتایا کہ جب اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے لڑکیوں کے لیے بند ہوتے تھے تو ان کی بیٹی ذمنہ کی ذہنی اور جسمانی حالت خراب ہوگئی۔ انھوں نے سوچا کہ ایک مدرسہ قائم کیا جائے جس میں لڑکیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ بارہویں جماعت تک درسی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ اسی طرح محمودی نے ابتدائی طبی امداد اور دیگر کورسز شروع کرائے، مگر مجموعی طور پر افغانستان میں لڑکیوں کے لیے دینی تعلیم کے مدارس میں بھی ماحول افسردہ ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈز یونیسیف کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی خواتین مخالف پالیسی کی بناء پرکئی لاکھ بچیوں کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے۔

افغانستان کے قونصل جنرل کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں حالات معمول پر آچکے ہیں، اس بناء پر افغان باشندوں کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے مگر وہ خواتین کی تعلیم اور روزگار کے حق کے حوالے سے کچھ کہنے کو تیار نہیں ہیں۔ افغانستان میں طالبات کو اسکول،کالج اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایک طالبہ نے یونیسیف کی ٹیم کو بتایا تھا کہ وہ ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھتی تھیں مگر اب طالبان کے مدارس میں جانا پڑگیا ہے جہاں صرف مخصوص کتابوں سے تعلیم دی جاتی ہے اور سیاسی بحث پر پابندی عائد کی گئی ہے، یوں ان بچیوں میں ڈپریشن کے علاوہ کچھ نہیں بچ پارہا۔

حکومت پاکستان نے مالیاتی بحران،غیر ملکی امداد بند ہونے اور سیکیورٹی کی وجوہات کی بناء پر افغان مہاجرین کو ان کے اپنے وطن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا سندھ اور بلوچستان میں بھی خیرمقدم کیا گیا ہے کیونکہ افغان مہاجرین کا بیشتر بوجھ کراچی، حیدرآباد اورکوئٹہ پر ہے۔ البتہ ایسے افغان پناہ گزین جو یورپی ممالک کے ویز ے آنے کے منتظر ہیں ، انھیں انسانی بنیادوں پر جب تک وہ یورپ، امریکا اور کینیڈا وغیرہ نہ چلے جائیں، پاکستان میں قیام کی اجازت ہونی چاہیے۔ پاکستانی حکومت کو انسانیت کی بنیاد پرکچھ فیصلے کرنے چاہئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغان پناہ گزین افغانستان میں یورپی ممالک پناہ گزینوں امریکا اور اسلام آباد کہ افغان میں کام بناء پر کے لیے گیا ہے اور ان

پڑھیں:

ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں

سعودی عرب نے ویژن 2030 کے تحت گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران نہ صرف معیشت کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کی بلکہ روزگار، خواتین کے بااختیار بنانے، صحت، رہائش، کھیل، ثقافت اور نوجوانوں کی ترقی سمیت سماجی شعبوں میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق مملکت اب ایک مضبوط معیشت کے ساتھ ایک جدید اور متحرک معاشرے کی تشکیل کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

اپریل 2016 میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ویژن 2030 کے آغاز کے بعد سعودی عرب نے اقتصادی، مالی، انتظامی اور سماجی اصلاحات کے ذریعے ایک نئی ترقیاتی راہ اختیار کی۔ گزشتہ تقریباً 10 برس کے دوران مملکت نے نہ صرف بڑے اقتصادی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حیثیت بھی مزید مستحکم کی۔

یہ بھی پڑھیے ویژن 2030: سعودی عرب نے سماجی و معاشی ترقی کے بیشتر اہداف قبل از وقت حاصل کر لیے

ابتدائی برسوں میں عالمی توجہ زیادہ تر اقتصادی تنوع اور میگا پراجیکٹس پر مرکوز رہی، تاہم اب ویژن 2030 کا سب سے نمایاں پہلو سعودی معاشرے میں آنے والی وسیع سماجی تبدیلیاں بن چکی ہیں، جنہوں نے شہریوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔

تازہ ترین ویژن 2030 سالانہ رپورٹ کے مطابق معیارِ زندگی، روزگار، گھروں کی ملکیت، کھیل، ثقافت، سماجی شمولیت اور ترقی کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویژن 2030 صرف نئی معیشت نہیں بلکہ ایک نئے سعودی معاشرے کی بھی تشکیل کر رہا ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویژن 2030 کے آغاز پر نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی نوجوان ہی مستقبل کی ضمانت ہیں، اسی لیے حکومتی سرمایہ کاری کا بنیادی مرکز نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور مہارتوں کی ترقی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

روزگار اور انسانی ترقی میں نمایاں کامیابیاں

رپورٹ کے مطابق 2025 تک نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد 17 لاکھ سے بڑھ کر 26 لاکھ ہو گئی، جبکہ قومی بے روزگاری کی شرح 2016 کے 12.3 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد رہ گئی، جو مقررہ ہدف سے بھی بہتر کارکردگی ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) بھی روزگار کے بڑے ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں، جہاں ملازمتوں کی تعداد 88 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی، جو 2025 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔

خواتین کی شمولیت میں تاریخی اضافہ

ویژن 2030 کے تحت خواتین کی معاشی شرکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 22.8 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 2030 کا ہدف 40 فیصد مقرر ہے۔

یہ کامیابی بچوں کی نگہداشت، لچکدار ملازمتوں، بہتر ٹرانسپورٹ، اور خواتین کے لیے نئے شعبے کھولنے جیسی حکومتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب 43.9 فیصد درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔

خصوصی افراد کے لیے بھی بہتر مواقع

کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خصوصی افراد کی ملازمت کی شرح 14.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ اس پیش رفت میں دفاتر میں رسائی بہتر بنانے اور آجر اداروں کی حوصلہ افزائی نے اہم کردار ادا کیا۔

انسانی ترقی اور رضاکارانہ خدمات

سعودی عرب کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (HDI) بڑھ کر 0.900 ہو گیا، جو 2025 کے ہدف سے بھی بہتر ہے۔

ملک میں رضاکارانہ خدمات کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پایا، جہاں 17 لاکھ 49 ہزار رضاکار سرگرم عمل ہیں، جبکہ 2030 کا ہدف صرف 10 لاکھ تھا، جو 5 سال پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔

کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے پروگرام چلانے والی بڑی کمپنیوں کا تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 76.83 فیصد ہو گیا، جبکہ غیر منافع بخش شعبے کا مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں حصہ 0.2 فیصد سے بڑھ کر 1.4 فیصد تک پہنچ گیا۔

نوجوانوں کی مہارتوں پر خصوصی توجہ

سعودی حکومت نے نوجوانوں کے لیے تعلیم، فنی تربیت، انٹرن شپ، کاروباری معاونت اور کیریئر ڈویلپمنٹ کے متعدد پروگرام شروع کیے۔

فنی و پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کرنے والے 47.41 فیصد طلبہ کو 6 ماہ کے اندر ملازمت مل رہی ہے، جبکہ جامعات اور صنعتوں کے درمیان 90 سے زائد شراکتی پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں۔

میڈیا انڈسٹری کے لیے بھی نیا میڈیا اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔

گھروں کی ملکیت میں نمایاں اضافہ

ویژن 2030 کے ہاؤسنگ پروگرام کے تحت رہائشی قرضوں، تعمیراتی منصوبوں اور نئے خریداروں کی معاونت کے باعث گھروں کی ملکیت کی شرح 66.24 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2025 کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔

صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری

2024 میں اوسط عمر 79.7 سال تک پہنچ گئی، جبکہ 97.5 فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر آ چکی ہیں۔

فی ایک لاکھ آبادی پر نرسوں کی تعداد 581.6 سے بڑھ کر 863.4 ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متعدی بیماریوں سے اموات میں 50 فیصد کمی آئی۔ دائمی بیماریوں سے اموات میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اقوام متحدہ کے اہداف سے بھی بہتر ہے۔ 70 فیصد سرطان کے کیسز ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو رہے ہیں، جس سے علاج کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

کھیلوں اور صحت مند طرزِ زندگی کا فروغ

سعودی پرو لیگ، فارمولا ون سعودی گراں پری اور 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی جیسے منصوبوں نے سعودی عرب کو عالمی کھیلوں کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔

2025 میں ریاض میں ہونے والے ای اسپورٹس ورلڈ کپ میں 30 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جبکہ ٹکٹوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

متعدد کھیلوں کی سہولت رکھنے والے کلبوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 133 ہو گئی، جبکہ خواتین کی کھیلوں میں شرکت بھی نمایاں طور پر بڑھی۔ ریاض میراتھن میں شرکت کرنے والی خواتین کی تعداد 3,500 سے بڑھ کر 15 ہزار تک پہنچ گئی۔

تفریح، ثقافت اور سیاحت میں ترقی

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے تحت ملک بھر میں تفریحی سرگرمیوں، تھیٹر، سینما، کنسرٹس اور ثقافتی پروگراموں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

2025 میں سکس فلیگز قدیہ سٹی کا افتتاح کیا گیا جبکہ JAX فلم اسٹوڈیوز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو سعودی فلمی صنعت میں اہم سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاحت کے فروغ کے لیے ای ویزا نظام نے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ سعودی عرب کے 17 ریستوران اب مشیلن گائیڈ میں شامل ہو چکے ہیں۔

ثقافتی ورثے کا تحفظ

جدید ترقی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے اپنے تاریخی، ثقافتی اور اسلامی ورثے کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔

مملکت کے 8 تاریخی مقامات اب یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں، جو 2030 کا ہدف پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔

2025 میں بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ مکہ روٹ انیشی ایٹو کے ذریعے 12 لاکھ عازمین کو سہولت فراہم کی گئی۔

مستقبل کا لائحۂ عمل

رپورٹ کے مطابق ویژن 2030 کے اگلے مرحلے میں روزگار، رہائش، صحت، تعلیم، کھیل، ثقافت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں مزید پیشرفت پر توجہ دی جائے گی تاکہ مملکت کا ہر شہری اور رہائشی ترقی کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکے۔

ویژن 2030 کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اقتصادی اشاریے نہیں بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیاں، بہتر ملازمتیں، معیاری رہائش، بہتر صحت اور ایک متحرک و خوشحال معاشرہ ہے، جس کی تعمیر سعودی عرب تیزی سے کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی وژن 2030 سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

متعلقہ مضامین

  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی