مراد شاہ کو پنجاب کے کسانوں کی فکر زیادہ، سندھ میں گندم کی سرکاری قیمت مقرر کی؟ عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کی ترقی و خوشحالی دو صوبوں کی حکومتوں کے اعصاب پر سوار ہے۔ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں کی فکر کم اور پنجاب کے کسانوں کی فکر زیادہ ہے۔ پنجاب کے کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح کے لیے پنجاب کی قیادت مکمل طور پر متحرک ہے اور یہاں کے کسانوں کا وارث خود پنجاب ہے۔ عظمیٰ بخاری نے سوال اٹھایا کہ "کیا سندھ میں کاشتکار موجود نہیں؟ کیا سندھ حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت مقرر کی ہے؟ کیا سندھ حکومت نے کسانوں سے گندم خرید لی ہے؟"ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراد علی شاہ اور ان کی جماعت گزشتہ 16 سال سے سندھ میں برسرِاقتدار ہے، لہٰذا وہ پہلے اپنی کارکردگی پر نظر ڈالیں اور عوام کو اس کا حساب دیں۔ مریم نواز نے صرف ایک سال میں پنجاب کے کسانوں کو 110 ارب روپے کے تاریخی پیکجز دئیے ہیں، جن میں کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر سکیم اور سپر سیڈر جیسے جدید آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن اور گندم کے لیے 15 ارب روپے کا خصوصی پیکج بھی فراہم کیا گیا ہے۔ پنجاب میں رواں سال ریکارڈ گندم کی پیداوار ہوئی ہے اور آئندہ سال اس سے بھی زیادہ فصل متوقع ہے۔ "مراد علی شاہ پنجاب کو سندھ سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بند کرنے والے مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔"
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب کے کسانوں مراد علی شاہ
پڑھیں:
پنجاب کے کسان کی بات کرنے والوں کو سندھ نظر نہیں آتا: عظمٰی بخاری
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو نے ایک جلسے میں پنجاب کی قیادت کے خلاف سخت جملوں کا استعمال کیا جبکہ ہم صرف سوال ہی پوچھ لیں تو توہین ہو جاتی ہے۔ پنجاب کے کسانوں کی بات کرنے والوں کو سندھ کے کسان نظر کیوں نہیں آتے؟ پالیسی کے تحت اگر پنجاب نے گندم نہیں خریدی تو کسانوں کو لاوارث بھی نہیں چھوڑا۔ پنجاب کے کسانوں کو ایک سو ارب روپے کا پیکج، پانچ ہزار فی ایکڑ اور پچیس ارب روپے کا ویٹ پروگرام دیا جائے گا۔ پنجاب کے کسانوں کو کسان کارڈ، ہزاروں ٹریکٹرز اور سپر سیڈرز دیئے گئے ہیں۔ جلسوں میں باتیں کرنا بہت آسان ہے مگر کسی صوبے نے کسانوں کے لیے امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے حقوق کی آڑ میں سیاست کرنے والے آج پنجاب کے کسانوں کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، جبکہ سندھ کے کسانوں کی حالت زار پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو کی جانب سے دئیے گئے بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ "کسانوں کے مسائل پر سیاست چمکانا آسان ہے، لیکن حل دینا اصل قیادت کا کام ہوتا ہے۔"انکا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ سندھ کے کسانوں کی حالت پر کسی نے بات نہیں کی۔ نہ وہاں گندم کا ریٹ مقرر کیا گیا، نہ کسان کارڈ جاری کیے گئے۔ ہر کسان کو فی ایکڑ 5 ہزار روپے دئیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، 25 ارب روپے کے ویٹ سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ ہر ضلع کے بہترین کاشتکار کو 10 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے کو گندم کی خریداری کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ کسانوں کو فوری ریلیف حاصل ہو۔ بنک آف پنجاب کے ذریعے کسانوں کے لیے 100 ارب روپے کی کریڈٹ لائن دی جا رہی ہے اور کسان کارڈ کے ذریعے اب تک 55 ارب روپے کی خریداری ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی جدید زرعی مشینری بھی حکومت پنجاب خریدے گی اور بغیر کسی منافع کے کسانوں کو فراہم کرے گی تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کسانوں کے مفاد کو ذاتی اہمیت دیتی ہیں اور حکومت کسان اور کاشتکار کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ گندم کے باہر جانے کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے اور حکومت کے پاس گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔