دوبارہ سرکاری ملازمت پر پنشن یا تنخواہ میں سے صرف ایک سہولت ملے گی، وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تقرری سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی صورت میں صرف تنخواہ یا پنشن میں سے کسی ایک کی سہولت دی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے آفس میمورنڈم کے مطابق اگر وفاقی حکومت کا کوئی ریٹائرڈ سرکاری ملازم 60 سال کی عمر کے بعد دوبارہ ریگولر یا کنٹریکٹ بنیاد پر ملازمت حاصل کرتا ہے تو وہ صرف پینشن یا تنخواہ میں سے ایک چیز کا ہی حقدار ہوگا۔
پی ایس ایل10؛ ملتان سلطانز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
وزارتِ خزانہ نے یہ فیصلہ پے اینڈ پنشن کمیشن 2020 کی سفارشات کی روشنی میں کیا ہے۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ تقرری کی صورت میں ملازمین کو واضح آپشن دیا جائے گا کہ وہ پینشن لیں گے یا نئی ملازمت کی تنخواہ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔