عمران خان کی مقبولیت سے متعلق بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، عارف علوی کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما و سابق صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے گزشتہ روز دیے گئے بیان پر وضاحت پیش کر دی اور کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں سابق صدر نے کہا کہ سیاست میں اور خاص طور پر آج کل کے حالات میں اس بات کا امکان بہت ہے کہ الفاظ کو توڑ مروڑ کر اور کاٹ پیٹ کر پیش کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے ادھورے کلپ میں جو بات کاٹ دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی موازنہ نہیں ہے عمران خان کا کسی نبی کے ساتھ۔ عمران خان کسی نبی کی خاکِ پا (یعنی پیروں کی خاک) کے برابر بھی نہیں ہیں۔ یہی میرا ایمان ہے اور اِس پر میں قائم ہوں اور قائم رہوں گا۔
سیاست میں اور خاص طور پر آج کل کے حالات میں اس بات کا امکان بہت ہے کہ الفاظ کو توڑ مروڑ کر اور کاٹ پیٹ کر پیش کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر چلنے والے ادھورے کلپ میں جو بات کاٹ دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی موازنہ نہیں ہے عمران خان کا کسی نبی کے ساتھ۔ عمران خان کسی نبی کی خاکِ پا (یعنی…
— Dr.
عارف علوی نے کہا کہ زمانے کے حالات کے مطابق سورۃ الحجرات کی آیت 6 کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں، جس میں اللہ تعلی نے فاسق کی خبر کی تصدیق کی ہدایت فرمائی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ انسان خطاؤں کا پتلا ہے اور اپنے رب کریم سے ہمیشہ معافی اور ہدایت کا طلبگار بھی۔ جن کی اس ادھوری دکھائی گئی وڈیو سے دل آزاری ہوئی، میں ان سے بھی معافی چاہتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو جو مقبولیت ملی وہ بہت سارے انبیا کو بھی نہ مل سکی، عارف علوی متنازع بیان کے بعد تنقید کی زد میں
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر عارف علوی کا ایک بیان سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا تھا جس میں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جو مقبولیت ملی وہ اللہ تعالی نے بہت سارے انبیا کو بھی نہیں دی۔
لندن میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ کسی بھی لیڈر کی 91 فیصد مقبولیت غیر معمولی ہے۔ اگر اس میں کوئی ہیر پھیر ہوئی تو چلیں 80 فیصد سمجھ لیں لیکن یہ مقبولیت بہت زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت بہت سے انبیا کو بھی نہیں دی۔ لیکن ساتھ انہوں نے یہ وضاحت بھی کردی کہ اللہ کے انبیا اور عمران خان کا کسی صورت کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ تاہم اس منتازعہ بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر عارف علوی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عارف علوی عارف علوی بیان عمران خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عارف علوی عارف علوی بیان سوشل میڈیا پر کر پیش کیا عارف علوی بات کا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔