سندھ اور پنجاب شدید گرمی کی لپیٹ میں
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
— فاائل فوٹو
سندھ اور پنجاب کے مخلتف شہروں میں گرمی کی شدت برقرار ہے۔
سندھ کے حیدرآباد، لاڑکانہ، نوابشاہ، نوشہروفیروز سمیت اکثر شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔
گرمی اور کئی گھنٹوں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں جبکہ شہری سایہ دار درختوں کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
پنجاب میں آج بھی گرمی اور ہیٹپنجاب میں آج بھی گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر برقرار رہے گی۔ ویو کی لہر برقرار رہے گی۔
دوسری جانب پنجاب میں بھی ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالا، نارروال اور دیگر علاقوں میں موسم گرم اور خشک ہے۔
آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات پر برفباری تھمنے کے بعد موسم خوش گوار ہے، درجۂ حرارت بڑھنے سے ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
محکمۂ موسمیات نے رات میں خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر گرج چمک اور ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔