سورج بھی آگ برسانے لگا، گرمی کی شدید لہر آنے کا امکان، محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
سورج بھی آگ برسانے لگا، گرمی کی شدید لہر آنے کا امکان، محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں ہفتہ 26 تا 30 اپریل کے دوران گرمی کی لہر کی پیش گوئی کی ہے ۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ہو ا کا زیادہ دبائو 26 اپریل کو ملک میں داخل ہوگا جو 27 اپریل کو بیشتر علاقوں پر اثر انداز ہو گا۔26 اپریل تا یکم مئی کے دوران ملک کے جنوبی علاقوں بشمول سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں دن کا درجہ حرارت معمول سے 5 تا 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے ۔
اسی طرح 27 تا30 اپریل کے دوران ملک کے بالائی علاقوں (وسطی و بالائی پنجاب ، اسلام آباد، خیبر پختو نخوا، کشمیر ، گلگت بلتستان )میں بھی دن کا درجہ حرارت معمول سے 4 تا 6 ڈگری زیاد ہ رہنے کی توقع ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 30 اپریل کو ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا سبب بنے والی ہوائیں داخل ہونے کی پیشنگوئی کی گئی ہے ۔
جس کے نتیجہ میں 30 اپریل اور یکم مئی کو اسلام آباد ،کشمیر ، خطہ پوٹھوہار سمیت شمال مشرقی پنجاب ، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلستان میں آندھی ،جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
اس دوران چند مقامات پر موسلا دھار بارش /ژالہ باری کی توقع ہے ۔ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ یکم مئی سے ملک میں گرمی کی شدت میں کمی متوقع ہے ۔محکمہ موسمیات نے عوام الناس بالخصوص بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کو دھوپ کے دوران گھروں سے باہر کم سے کم نکلیں اور پانی کا استعمال زیادہ کریں ۔
اسی طرح کاشتکار طبقہ گندم کی کٹائی کے معاملات کو موسمی حالات کے مطابق ترتیب دیں جبکہ جانوروں کو بھی گرم موسم سے محفوظ رکھیں ۔ محکمہ موسمیات نے خبر دار کیا ہے کہ ملک کے شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت میں اضافہ اور خصوصاً 27 اپریل تا یکم مئی کے دوران برف کے پگھلنے کی شرح بڑھ سکتی ہے ۔ مزید برآں 30 اپریل اور یکم مئی کو وفاقی دارالحکومت سمیت خطہ پوٹھوہار ، شمالی مشرقی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں آندھی / جھکڑ /ژالہ باری اور گرج چمک کے باعث بجلی کے کھمبے ، درخت ، گاڑیاں اور سولر پینلز سمیت دیگر کمزور انفراسٹرکچرل کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے ۔
محکمہ موسمیات نے گرمی کی لہر کے دوران کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سےمحفوظ رہنے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور ضروری اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرارشد ندیم کو انڈیا آنے کی دعوت دینے پر بھارتی انتہا پسند نیرج چوپڑا کے پیچھے پڑ گئے پاک بھارت کشیدگی؛ پیٹرولیم مصنوعات کی وافر مقدار ذخیرہ کرنے کے احکامات فوج تیار ہے، کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ماضی جیسا دیا جائے گا: اسحاق ڈار سرینا اور میریٹ ہوٹلز کو بم دھمکیاں، سکیورٹی ادارے حرکت میں آگئے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا موٹروے پولیس ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، اہم اعلانات پاک بھارت کشیدگی؛ جنگ ہوئی تو کسی کا کچھ نہیں بچے گا، خواجہ سعد رفیق پہلگام حملے میں مارے گئے افرادکے لواحقین مودی سرکار پر برس پڑےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات نے کا امکان گرمی کی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔