غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار WhatsAppFacebookTwitter 0 25 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے ایک کارروائی میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار کر لیا۔
ملزم مجتبیٰ حیدر کو چھاپہ مار کارروائی میں شاہراہ پاکستان کراچی سے گرفتار کیا گیا۔کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے غیر ملکی کرنسی اور موبائل فون برآمد ہوئے۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزم سے 14 ہزار امریکی ڈالر اور 2 عدد موبائل فون برآمد ہوئے۔ ملزم کے موبائل فونز سے غیر ملکی کرنسی کی غیر قانونی خرید و فروخت سے متعلق ڈیجیٹل شواہد بھی برآمد کر لیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ملزم نے تفتیش کے دوران غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی منتقل کرنے کے بعد ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسورج بھی آگ برسانے لگا، گرمی کی شدید لہر آنے کا امکان، محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا سورج بھی آگ برسانے لگا، گرمی کی شدید لہر آنے کا امکان، محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا پاک بھارت کشیدگی؛ پیٹرولیم مصنوعات کی وافر مقدار ذخیرہ کرنے کے احکامات فوج تیار ہے، کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ماضی جیسا دیا جائے گا: اسحاق ڈار سرینا اور میریٹ ہوٹلز کو بم دھمکیاں، سکیورٹی ادارے حرکت میں آگئے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا موٹروے پولیس ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، اہم اعلانات پاک بھارت کشیدگی؛ جنگ ہوئی تو کسی کا کچھ نہیں بچے گا، خواجہ سعد رفیقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں ملوث
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔