سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
---فائل فوٹو
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قومی سلامتی کمیٹی کے گزشتہ روز کے اجلاس کے فیصلوں کی مکمل حمایت کر دی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان فیصلوں کو ہمسایہ ملک کی اشتعال انگیزی کے جواب میں مناسب اقدام سمجھتے ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھارتی سفارتکاروں.
اعلامیے کے مطابق یہ فیصلے قومی وقار کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں، وفاقی حکومت فوری طور پر تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کرے، اجلاس کا مقصد قومی اور سیاسی یکجہتی کا ایک اور مضبوط پیغام دنیا کو دینا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے یک طرفہ اور قبل از وقت بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا، قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلانا اور لیے گئے فیصلوں کا ہونا بروقت اقدام تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کورٹ بار
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں