قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 April, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پہلگام میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

کمیٹی نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کمیٹی کا اجلاس چیئرمین فتح اللہ خان، رکن قومی اسمبلی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ اور بھابھی کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔

کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں زور دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتا رہا ہے، اور دہشت گردی کا خود شکار رہا ہے۔

تاہم اگر بھارت کی جانب سے کوئی بلاجواز اقدام کیا گیا تو پاکستان اس کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اجلاس میں کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش، سفیروں کی واپسی جیسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران “پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2024ء” کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزارت دفاع نے کمیٹی کو بل کی اہم شقوں سے آگاہ کیا، جن میں فلاحی سرگرمیوں، الیکٹرانک جرائم اور طریقہ کار میں اصلاحات شامل ہیں۔

وزارت کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم پاک فوج اور فضائیہ کے حالیہ ترمیمی ایکٹس سے مطابقت کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ تینوں مسلح افواج کے قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ کمیٹی نے بل کو متفقہ طور پر قومی اسمبلی سے منظور کرانے کی سفارش کی۔

مزید برآں، اجلاس میں سرویئر جنرل آف پاکستان اور چاروں صوبوں و گلگت بلتستان کے محکمہ معدنیات کے سیکریٹریز نے معدنی وسائل کی سروے اور میپنگ میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔

کمیٹی نے زور دیا کہ نجی اداروں کی بجائے سرویئر جنرل کے محکمے کی خدمات کو ترجیح دی جائے تاکہ حساس معلومات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزارت دفاع کے زیر انتظام ایف جی ای آئی تعلیمی اداروں اور وزارت تعلیم کے تحت ایف ڈی ای اداروں کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں فرق پر بھی گفتگو ہوئی۔

کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کے سیکریٹریز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ فنڈز کی غیر مساوی تقسیم پر وضاحت لی جا سکے۔

اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی جناب عقیل ملک، ابرار احمد، صبا صادق، اسپندیار بندارہ، صلاح الدین جونیجو، سنجے پروانی، گل اصغر خان، پلین بلوچ، محمد اسلم گھمن، غلام محمد اور محترمہ زیب جعفر (پارلیمانی سیکریٹری برائے دفاع) نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ اجلاس میں سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی HI(M)، ایڈیشنل سیکریٹری (آرمی) میجر جنرل عامر اشفاق کیانی، وزارت قانون و انصاف، دفاع اور صوبائی حکومتوں کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کو 35 یوم کی دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق مکمل کیا جائے، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کو 35 یوم کی دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق مکمل کیا جائے، چیئرمین سی ڈی اے.

.. بھارت نے سی پیک کو ناکام بنانے ،چین کا راستہ روکنے کیلئے پہلگام ڈرامہ رچایا،محمد عارف جنرل ساحر شمشاد مرزا سے زمبابوے کے فضائیہ کمانڈر کی ملاقات،سیکیورٹی و دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ امریکا نے بھارت میں موجود اپنے شہریوں کے لیے الرٹ جاری کردیا بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے پہلگام حملے کو سکیورٹی کی خامی قرار دیدیا،تحقیقات کا مطالبہ باکسنگ رنگ میں پاکستان نے بھارت کو دھول چٹا دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کی برائے دفاع نے بھارت دفاع نے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن