وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجانی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو، بھارتی پروپیگنڈے سے آگاہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے وزیرخارجہ جیحون بایرامف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے آذربائیجان کے وزیرخارجہ کو ہندوستان کے غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے؛ آذربائیجان کے لیے پروازوں سے دونوں ممالک میں تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، خواجہ آصف
دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے سے خبردار کیا۔
نائب وزیراعظم نے جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی مسلسل حمایت پر آذربائیجان کا شکریہ ادا کیا اور دونوں رہنماؤں نے پاکستان آذربائیجان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں جاری دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آذربائیجان سینیٹر محمد اسحاق ڈار وزیرخارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیٹر محمد اسحاق ڈار آذربائیجان کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :