آذربائیجان تیزی سے بین الاقوامی پیشہ ور افراد کے لیے ایک پرکشش منزل بن رہا ہے۔ آذربائیجان نے حالیہ عرصے میں اپنے ورک پرمٹ کے قوانین کو آسان بنایا ہے تاکہ ہنرمند کارکن ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

آذربائیجان نے غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے پابندیوں کو کم کرنے کے لیے اصلاحات اور تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں، جس کے تحت بعض افراد کو بغیر باضابطہ ورک پرمٹ کے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ گزشتہ پالیسیوں سے ایک بڑا انحراف ہے، جن کے تحت تقریباً تمام غیر ملکی کارکنوں کو پرمٹ کے لیے درخواست دینا ضروری تھا، سوائے ان کے جو قومی اہمیت کے منصوبوں میں شامل تھے یا جنہیں منظور شدہ اداروں کے ذریعے ملازمت فراہم کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: ڈنمارک نے ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئی ملازمتوں کا اعلان کردیا

اپنی تازہ ترین پالیسیوں کے تحت، ہنر مند غیر ملکی ماہرین سرکاری یا نجی، مختلف شعبوں میں بغیر ورک پرمٹ کے کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی ملازمت ان کے شعبے سے مطابقت رکھتی ہو۔ یہ غیر ملکی ہنرمندوں کے لیے سابقہ پابندیوں سے کہیں زیادہ موقع فراہم کرتا ہے۔

‘ہنرمند’ کون ہے؟

ورک پرمٹ کی ضرورت سے مستثنیٰ ہونے کے لیے، درخواست گزاروں کو ‘ہنرمند’ حیثیت حاصل کرنا ہوگی جس کا معیار ذیل ہے:

مہارت اور تعلیم کا ثبوت

تمام افراد کو اپنے تعلیمی پس منظر، سندوں یا متعلقہ کام کے تجربے کے تصدیق شدہ دستاویزات جمع کروانا ہوں گی۔

پوائنٹس پر مبنی تخمینہ

امیدواروں کی قابلیت کا اندازہ لگانے کے لیے ایک منصفانہ اور شفاف پوائنٹس کا نظام استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ درخواستوں کے جائزے میں تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔

ہنرمند حیثیت کے لیے درخواست کا عمل اپنی درخواست جمع کریں اور تمام مطلوبہ معاون دستاویزات شامل کریں۔ پروسیسنگ کا وقت عام طور پر 20 سے 30 دنوں کے درمیان ہوتا ہے۔ جلد ہی ایک ڈیجیٹل پورٹل متوقع ہے جو درخواستیں جمع کروانے کو آسان بنائے گا۔

اگرچہ آپ کو ورک پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے، لیکن آپ کو آذربائیجان میں قانونی طور پر رہنے اور کام کرنے کے لیے رہائشی پرمٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی میں 4 لاکھ ملازمتیں، ویزا کیسے اپلائی کریں؟

ایک بار منظوری کے بعد ہنرمند پیشہ ور افراد کو 5 سال کی استثنائی حیثیت فراہم کیا جائے گا۔ یہ ملازمت کی سیکیورٹی فراہم کرتا ہے اور آذربائیجان میں طویل مدت تک کام کرنے کے لیے راستہ فراہم کرتا ہے۔

آذربائیجان زیادہ لچکدار ضوابط کے ساتھ خود کو بین الاقوامی ہنر مند افرادی قوت کے لیے ایک دلکش منزل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کے پیشہ ور، انجینیئرز، صحت کے کارکن، محققین اور ماہر تعلیمی اور دیگر صنعتی ماہرین اس پرکشش موقع سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Azerbaijan jobs work permit آذربائیجان روزگار ملازمتیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: روزگار ملازمتیں غیر ملکی پیشہ ور پرمٹ کے کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ