مودی حکومت یاد رکھے ،پاکستان خاموش نہیں رہے گا، بھارتی سیاستدان کی حکومت کو وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
مودی حکومت یاد رکھے ،پاکستان خاموش نہیں رہے گا، بھارتی سیاستدان کی حکومت کو وارننگ WhatsAppFacebookTwitter 0 26 April, 2025 سب نیوز
ممبئی(آئی پی ایس )مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے خود ساختہ فالس فلیگ آپریشن کے بعد جہاں مودی سرکار پاکستان دشمن اقدامات پر اندھا دھند آگے بڑھ رہی ہے، وہیں خود بھارتی سیاسی رہنما بھی انتباہ دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے مودی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا اور ہر اقدام کا بھرپور جواب دے گا۔شرد پوار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ آج ہم کوئی بھی فیصلہ لے سکتے ہیں، لیکن کل پاکستان بھی ردعمل دے گا میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان خاموشی اختیار کرے گا۔
ان کے اس بیان نے بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون اور عاقبت نااندیش فیصلوں پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔یاد رہے کہ بھارت نے پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر پاکستان پر جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، واہگہ اٹاری بارڈر بند کردیا اور پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان میں موجود اپنے سفارتی عملے کو بھی محدود کر دیا ہے۔تاہم پاکستان نے بھارتی جارحیت کا نہایت مدلل اور بھرپور جواب دیتے ہوئے نہ صرف شملہ معاہدہ معطل کرنے کا انتباہ جاری کیا بلکہ بھارت کے ساتھ تمام تجارتی روابط ختم کرتے ہوئے اپنے فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بند کر دی ہے۔ پاکستانی اقدام نے بھارت کو شدید معاشی اور سفری دبا میں مبتلا کر دیا ہے۔
شرد پوار نے پاکستانی فضائی حدود کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اعتراف کیا کہ تقریبا تمام پروازیں جو یورپی ممالک کی طرف جاتی ہیں، پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو ہوائی سفر نہایت مہنگا ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جب 2019 میں پاکستان نے اپنی فضائی حدود بند کی تھی تو بھارتی ائیرلائنز کو تقریبا 700 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔شرد پوار نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے کیے جا رہے تھے، پہلگام کا واقعہ ان دعوں کی قلعی کھول دیتا ہے اور یہ سیکیورٹی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود، پاکستان نہ صرف اپنے دفاع میں پرعزم ہے بلکہ سفارتی میدان میں بھی بھارت کو بے نقاب کر رہا ہے۔ بھارتی سیاستدانوں کی خود اپنے ملک کی حکومت پر تنقید اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پاکستان سچائی کی راہ پر گامزن ہے اور بھارت اپنی جھوٹی چالاکیوں میں بری طرح پھنس چکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانیوں کو بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم، فواد چوہدری اور عدنان سمیع کے درمیان لفظی جنگ،دلچسپ جملے بازی پاکستانیوں کو بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم، فواد چوہدری اور عدنان سمیع کے درمیان لفظی جنگ،دلچسپ جملے بازی ٹرمپ انتظامیہ غیر ملکی طلبہ کی قانونی حیثیت کے خاتمے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی انڈس واٹر کمیشن نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا جائزہ لینا شروع کردیا چھٹا ای سی او ٹورازم وزارتی اجلاس ، لاہور ٹورازم کیپٹل 2027 قرار،وزیر اعلی پنجاب کا خیر مقدم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت فالس فلیگ آپریشن ، مودی سرکار کا مسلمانوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ، منظم انداز میںمہم جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مودی حکومت
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔