جوہری مذاکرات: ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور مکمل
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور عمان میں اختتام پذیر ہوگیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے مسقط میں عمانی ثالثوں کے ذریعے قریباً 6 گھنٹے تک بات چیت کی۔ اور دونوں فریقین نے گفتگو کو تعمیری قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایران امریکا مذاکرات: فریقین کا جوہری معاہدے کے لیے فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق
عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے کہاکہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، آئندہ کی اعلیٰ سطح میٹنگ 3 مئی کو شیڈول ہے۔
ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات سے قبل ممکنہ جوہری معاہدے کی خاطر ایک فریم ورک ڈیزائن کرنے کے لیے مسقط میں ماہرین کی سطح پر بالواسطہ بات چیت بھی ہوئی۔
مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دینے والے ایک ایرانی اہلکار نے قبل ازیں میڈیا کو بتایا کہ ماہرین کی سطح کے مذاکرات مشکل، پیچیدہ اور سنجیدہ تھے۔
ایران نے اپنی طرف سے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں میں ریلیف حاصل کرنے کے خواہاں ہے کیونکہ اس کی معیشت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عمان میں صحافیوں کو بتایا کہ ایران غیر منصفانہ پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت پر اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم ہے اور اپنے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کے بارے میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے ایک روز قبل ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ میرے خیال میں ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، لیکن انہوں نے سفارت کاری میں ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دہرائی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس ہفتے کہا تھا کہ ایران کو ایک معاہدے کے تحت یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روکنا ہو گا، اور اپنے واحد جوہری توانائی پلانٹ، بوشہر کو ایندھن کے لیے ضروری افزودہ یورینیم درآمد کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں مذاکرات سے قبل امریکا کا مزید ایرانی اداروں کیخلاف پابندیوں کا اعلان
یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی امید ظاہر کی تھی، اور کہا تھا کہ روم میں ہونے والی بات چیت اچھے ماحول میں ہوئی۔ اور دونوں ممالک نے جوہری معاہدے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران جوہری مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ عمان واشنگٹن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران جوہری مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن وی نیوز جوہری مذاکرات مذاکرات کا امریکا کے کرنے کے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔