اقتدار کو تم جنت سمجھتے ہو مگر ہم اسے تمھارے لیے جہنم بنادیں گے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
لاہور:
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تمہارا ایوان اقتدار جس تم جنت سمجھتے ہو اسے ہم نے بڑے بڑے حکمرانوں پر انکے محل ان پر جہنم بنا دیا ہے اور تم پر بھی اسے جہنم بنائیں گے۔
لاہور کے مینار پاکستان میں منعقدہ قومی کانفرنس یکجہتی فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تم جہاد فلسطین اور آزادی کی جدوجہد کے دشمن ہو کیونکہ تم غلامی کرتے ہو اور ہم آزادی کی جدوجہد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دینی مدارس کے حوالے سے بات بھی بین اقوامی دباؤ پر کی گئی، میں اسکو تسلیم نہیں کرتا، میں نے مدارس کے معاملے پر صبر کیا اب مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے جو کام ہوا ہے اس پر جلد ازجلد عملدرآمد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف بیت المقدس کے خلاف کشمیر کی جنگ ہم لڑیں گے، دینی مدارس کی بقا کی جنگ بھی ہم ہی لڑیں گے۔
فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل کوئی ریاست نہیں بلکہ فلسطین کی زمیں پر قابض ہے اور امریکا اس معاملے میں اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، میں امریکہ اور برطانیہ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تم جاتے ہوئے کشمیر کا تیر گھونپا اور اب جاتے ہوئے اسرائیل کا تیر گھونپا۔
انہوں نے کہا کہ انشاللہ کی یہ جماعتیں اور یہ علماء ساتھ ہیں، فلسطین آج سے جہاد نہیں لڑ رہا بلکہ اس کی 100 سالہ جدوجہد کی تاریخ ہے، اگر علماء نے جہاد کا کہا تو تم نے مذاق اڑایا مگر مجھ سمیت کسی کو بھی کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ تم نے اپنے آپ کو بے نقاب کر دیا کہ تم اسرائیل کے یار اور جہاد فلسطین و آزادی کی جدوجہد کے دشمن ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فضل الرحمان نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔