پاکستانی اہلسنت مفتیان کرام کی جانب سے فلسطین کیلئے عملی جہاد فرض ہونے کا فتویٰ کتنا مؤثر؟ کیا مفتیان کرام کا 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ کے ڈیڑھ سال بعد فتویٰ زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں؟ مسلم حکمران فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو، وہ واجب الاطاعت ہے، اس عقیدے کو مانتے ہوئے جہاد فرض ہونے کے فتویٰ کی حیثیت؟ کیا مفتیان کرام کی جانب سے مسلم حکمرانوں کیلئے جہاد فرض ہونے کا فتویٰ 1400 سالہ عقیدہ سے بغاوت شمار ہوگی؟ مفتیان کرام کا فتویٰ آئیڈیالوجی کے خلاف اور آئیڈیا لوجی فتویٰ کے خلاف ہے؟ کیا مفتیان کرام کے فتویٰ کی حیثیت کاغذ کے پرزے سے زیادہ نہیں؟ مسلم معاشرے پر فتویٰ کا اثر صفر کیوں؟ اس صورتحال میں بھی جہاد فرض کا فتویٰ قابل ستائش کیوں؟ اسلام آباد میں فلسطین کانفرنس میں اہل تشیع مسلمانوں کو نمائندگی نہ دینے کی اصل وجہ؟ و دیگر سوالات کے جوابات جاننے کیلئے معروف مذہبی اسکالر علامہ محمد امین شہیدی کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کیساتھ بھی شیئر کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںعلامہ محمد امین شہیدی امت واحدہ پاکستان کے سربراہ ہیں۔ انکا شمار ملک کے معروف ترین علمائے کرام اور مذہبی اسکالرز میں ہوتا ہے، دلیل کیساتھ اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا پر ٹاک شوز، مذاکروں اور مذہبی محافل میں شریک دکھائی دیتے ہیں۔ علامہ امین شہیدی اتحاد بین المسلمین کے حقیقی داعی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ملکی اور عالمی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، وہ اپنی تقریر میں حقائق کی بنیاد پر حالات کا نہایت درست اور عمیق تجزیہ پیش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کرنٹ افیئرز سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں انہیں بڑی پذیرائی حاصل ہے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے علامہ امین شہیدی کیساتھ پاکستانی مفتیان کرام کی جانب سے فلسطین کیلئے عملی جہاد کے فرض ہونے کے فتویٰ سمیت دیگر متعلقہ موضوعات کے حوالے سے کراچی میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے لیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امین شہیدی جہاد فرض فرض ہونے کا فتوی

پڑھیں:

سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے