غزہ کے ساتھ لبنان پر بھی حملے، اسرائیلی طیاروں کی بیروت پر بمباری
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
غزہ کے ساتھ اسرائیل کی لبنان پر جارحیت بھی جاری ، اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بمباری کردی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بیروت میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا، فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دحیہ میں ایک عمارت کو بمباری کا نشانہ بنایا، اس سے پہلے بمباری کے لیے وارننگ بھی جاری کی گئی تھی، بمباری کے بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل چھاگئے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے میں حزب اللہ کے ایک گودام کو نشانہ بنایا جہاں بھاری اسلحہ موجود تھا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایک اور ڈرون حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر کو شہید کرنےکا دعویٰ کیا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکا اور فرانس سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالےکہ وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔
جوزف عون کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے ضامن ہونے کے ناطے امریکا اور فرانس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔
لبنانی صدر نے کہا کہ اسرائیل لبنان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا کر کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔