اسرائیلی فورسز کی غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری، مزید 40 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
اسرائیلی فورسز کی غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری، مزید 40 فلسطینی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
اغزہ: سرائیلی فورسز نے غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید 40 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق انسانی امداد کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج کی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ مکمل طور پر قحط کی صورتحال کے قریب ہے۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرت میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور تعمیر نو پر نکتہ نظر پیش کریں گے۔
ادھر سابق سابق اسرائیلی وزیراعظم نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے جبکہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں افراد کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے مظاہرہ کیا گیا اور نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد: کم از کم اجرت کی خلاف ورزی، دو بڑے مارٹس سیل، مالکان گرفتار غزہ: حماس نے تمام قیدیوں کی رہائی، 5 سالہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کردی جعفرآباد اور پہلگام واقعے کی تحقیقات ضروری،مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے،وزیر داخلہ ٹرمپ انتظامیہ غیر ملکی طلبہ کی قانونی حیثیت کے خاتمے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کے اندر سے مودی حکومت کے خلاف آوازیں مزید بلند ہو گئیں بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں کے وحشیانہ قتل میں ملوث، سفاکیت کے دل دہلا دینے والے مناظر منظر عام پر دو قومی نظریے اور آرمی چیف کے بیان پر گودی میڈیا کا مضحکہ خیز پروپیگنڈاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔